Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1240 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.3K Views

عورت کا نامحرم منہاروں کے ہاتھ سے چوڑیاں پہننا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورت کا نامحرم منہاروں کے ہاتھ سے چوڑیاں پہننا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عورت کا نامحرم منہاروں کے ہاتھ سے چوڑیاں پہننا کیسا ہے ؟

یہ حرام کاری کافی رائج ہے عورتوں کو منہاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکر چوڑیاں پہننا سخت حرام ہے ۔ بلکہ اس میں دو حرام ہے: (١) غیر مرد کو ہاتھ دکھانا (٢) اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا۔ ہماری اسلامی ماؤں بہنوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اس کے عذاب سے بچیں اور اس فعل حرام کو فوراً ترک کردیں۔ بازار سے چوڑیاں خریدوا لیا کریں اور گھر میں عورتیں یا تو ایک دوسرے کو پہنا دیں یا گھر والوں میں سے کسی محرم سے پہن لیں یا شوہر اپنی بیوی کو پہنا دے تو گناہ سے بچ جائیں گی۔ جو مرد اپنی عورتوں کو منہاروں سے چوڑیاں پہنواتے یا اس سے منع نہیں کرتے وہ بہت بڑے بے غیرت اور دیوث ہیں ۔ سیدی اعلٰی حضرت اس مسئلے کے متعلق فرماتے ہیں: حرام حرام حرام ہاتھ دکھانا غیر مرد کو حرام اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا حرام جو مرد اپنی عورتوں کے ساتھ جائز رکھتے ہیں دیوث ہیں۔۔۔( فتاویٰ رضویہ ج۱۰ آخر صفحہ ۲۰۸) مردوں عورتوں کا ایک دوسرے کی مشابہت کرنا ۔۔ آج کل مردوں میں عورتوں کی اور عورتوں میں مردوں کی مشابہت کرنے اور ان کے انداز و لباس وچال ڈھال اپنانے کا مرض پیدا ہوگیا ہے، حالانکہ حدیث پاک میں ایسے لوگوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی جو مرد ہوکر عورتوں کی اور جو عورت ہوکر مردوں کی وضع وقطع اپنائیں۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ عورت ہمارے گروہ سے نہیں جو مردانہ رکھ رکھاؤ اپنائے اور وہ مرد جو زمانہ ڈھنگ اختیار کرے ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے ، ایک عورت کے بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بتایا گیا کہ وہ مردانہ جوتا پہنتی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو وضع قطع ، رکھ رکھاؤ لباس وغیرہ مردوں کے ساتھ خاص ہوں ان کو عورتیں نہ اپنائیں اور جو عورتوں کے ساتھ خاص ہو اس کو مرد نہ اپنائیں۔ آجکل کچھ عورتیں مردوں کی طرح بال کٹوانے لگی ہیں یہ ان کے لیے حرام ہے، اور مرنے کے بعد سخت عذاب پائیں گی۔ ایسے ہی کچھ مرد عورتوں کی طرح بال بڑھاتے ہیں صوفی بننے کے لیے لمبی لمبی لٹیں رکھتے ہیں چوٹیاں گوندھتے اور جوڑے بنا لیتے ہیں یہ سب ناجائز و خلاف شرع ہے۔ تصوف اور فقیری بال بڑھانے اور رنگے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی اور خواہشات نفسانی کو مارنے کا نام ہے۔۔ ماخوز : از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد بریلوی

Kutubahu & Verified by:

<h2>عورت کا نامحرم منہاروں کے ہاتھ سے چوڑیاں پہننا کیسا ہے ؟</h2> یہ حرام کاری کافی رائج ہے عورتوں کو منہاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکر چوڑیاں پہننا سخت حرام ہے ۔ بلکہ اس میں دو حرام ہے: (١) غیر مرد کو ہاتھ دکھانا (٢) اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا۔ ہماری اسلامی ماؤں بہنوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اس کے عذاب سے بچیں اور اس فعل حرام کو فوراً ترک کردیں۔ بازار سے چوڑیاں خریدوا لیا کریں اور گھر میں عورتیں یا تو ایک دوسرے کو پہنا دیں یا گھر والوں میں سے کسی محرم سے پہن لیں یا شوہر اپنی بیوی کو پہنا دے تو گناہ سے بچ جائیں گی۔ جو مرد اپنی عورتوں کو منہاروں سے چوڑیاں پہنواتے یا اس سے منع نہیں کرتے وہ بہت بڑے بے غیرت اور دیوث ہیں ۔ سیدی اعلٰی حضرت اس مسئلے کے متعلق فرماتے ہیں: حرام حرام حرام ہاتھ دکھانا غیر مرد کو حرام اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا حرام جو مرد اپنی عورتوں کے ساتھ جائز رکھتے ہیں دیوث ہیں۔۔۔( فتاویٰ رضویہ ج۱۰ آخر صفحہ ۲۰۸) مردوں عورتوں کا ایک دوسرے کی مشابہت کرنا ۔۔ آج کل مردوں میں عورتوں کی اور عورتوں میں مردوں کی مشابہت کرنے اور ان کے انداز و لباس وچال ڈھال اپنانے کا مرض پیدا ہوگیا ہے، حالانکہ حدیث پاک میں ایسے لوگوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی جو مرد ہوکر عورتوں کی اور جو عورت ہوکر مردوں کی وضع وقطع اپنائیں۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ عورت ہمارے گروہ سے نہیں جو مردانہ رکھ رکھاؤ اپنائے اور وہ مرد جو زمانہ ڈھنگ اختیار کرے ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے ، ایک عورت کے بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بتایا گیا کہ وہ مردانہ جوتا پہنتی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو وضع قطع ، رکھ رکھاؤ لباس وغیرہ مردوں کے ساتھ خاص ہوں ان کو عورتیں نہ اپنائیں اور جو عورتوں کے ساتھ خاص ہو اس کو مرد نہ اپنائیں۔ آجکل کچھ عورتیں مردوں کی طرح بال کٹوانے لگی ہیں یہ ان کے لیے حرام ہے، اور مرنے کے بعد سخت عذاب پائیں گی۔ ایسے ہی کچھ مرد عورتوں کی طرح بال بڑھاتے ہیں صوفی بننے کے لیے لمبی لمبی لٹیں رکھتے ہیں چوٹیاں گوندھتے اور جوڑے بنا لیتے ہیں یہ سب ناجائز و خلاف شرع ہے۔ تصوف اور فقیری بال بڑھانے اور رنگے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی اور خواہشات نفسانی کو مارنے کا نام ہے۔۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوز : از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد بریلوی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...