Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1480
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.5K Views
عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟
سوال:- عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر کہے تو کیا حکم ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:- عورت کے لیے اذان کہنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر کہے تو اعادہ کیا جائے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے “وكره أذان المرأة فيعاد ندبا كذا فى الكافى”(ج ۱ ص ۵۴) اور درمختار میں ہے ” ويكره أذان جنب واقامته واقامة محدث لا أذانه على المذهب وأذان امرأة” پھر چند سطر بعد مذکور ہے “وكذا يعاد أذان امرأة ومجنون ومعتوه وسكران وصبي لا يعقل”(ج ۲ ص ۶۰ تا ۶۱) اور تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے “قال رحمه الله :وكره أذان الجنب واقامته واقامة المحدث وأذان المرأة والفاسق والقاعد والسكران، پھر آگے اسی میں ہے “ويعاد أذانها استحبابا لوقوعه لا على الوجه المسنون”(ج ۱ ص ۲۴۹ تا ۲۵۰) کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
Kutubahu & Verified by:
<h2>عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟</h2> سوال:- عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر کہے تو کیا حکم ہے؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:-</strong> </span> عورت کے لیے اذان کہنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر کہے تو اعادہ کیا جائے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "وكره أذان المرأة فيعاد ندبا كذا فى الكافى"(ج ۱ ص ۵۴) <strong>اور درمختار میں ہے " ويكره أذان جنب واقامته واقامة محدث لا أذانه على المذهب وأذان امرأة" پھر چند سطر بعد مذکور ہے "وكذا يعاد أذان امرأة ومجنون ومعتوه وسكران وصبي لا يعقل"(ج ۲ ص ۶۰ تا ۶۱)</strong> اور تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے "قال رحمه الله :وكره أذان الجنب واقامته واقامة المحدث وأذان المرأة والفاسق والقاعد والسكران، پھر آگے اسی میں ہے "ويعاد أذانها استحبابا لوقوعه لا على الوجه المسنون"(ج ۱ ص ۲۴۹ تا ۲۵۰) <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی </strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...