01
The questionSawaal
اصل سوالعورت کے لیے استحاضہ کے دنوں میں قرآن پڑھنے کاکیاحکم ہے؟
02
The responseAl-Jawab
عورت کے لیے استحاضہ کے دنوں میں قرآن پڑھنے کاکیاحکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کے لیے استحاضہ کے دنوں میں قرآن پڑھنے کاکیاحکم ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب عورت کے لئے استحاضہ کے دنوں میں قرآن پاک پڑھنا جائز ہے ،البتہ مستحاضہ عورت اگر قرآن پاک کو چھونا چاہے تو اس کے لئے وضو کرنا ضروری ہو گا،کیونکہ مستحاضہ عورت کا حکم طاہرات (یعنی حیض و نفاس سے پاک) خواتین والا ہے ۔نیز حدیث پاک میں جب مستحاضہ عورت کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ قرآن پاک کی تلاوت تو لازمی طور پر کرے گی۔ ترمذی شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام ِاستحاضہ کی نماز کا حکم بیان کرتے ہوئے حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنھا کو ارشاد فرمایا تھا”قال لا، إنما ذلك عرق، وليست بالحيضة “ترجمہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم نماز نہ چھوڑو، کہ یہ حیض کا نہیں بلکہ رگ (آنت)سے بہنے والا خون ہے ۔ (سنن الترمذی،جلد1،صفحہ 43،حدیث نمبر125،دار الکتب العلمیہ ،بیروت) درمختار میں ہے ”(لا يمنع صوما إلخ) “ترجمہ :استحاضہ کا خون روزے سے مانع نہیں ہے ۔ (رد المحتار ،جلد 1،صفحہ 544،مطبوعہ کوئٹہ( اسی کےتحت سیدی محمد امین ابن عا بدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 1252ھ)فرماتے ہیں ” أي ولا قراءة ومس مصحف ودخول مسجد“ترجمہ :یعنی استحاضہ کا خون قرآن پاک کی قرات،قرآن پاک کو چھونے ،اور مسجد میں داخل ہونے سےمانع نہیں ہے ۔ (رد المحتار ،جلد 1،صفحہ 544،مطبوعہ کوئٹہ( بدائع الصنائع میں ابو بكر بن مسعودکاسانی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی 587ھ)فرماتے ہیں”المستحاضة حكمها حكم الطاهرات “ ترجمہ : مستحاضہ عورت کا حکم طاہرات والا ہے ۔ (بدائع الصنائع ،جلد1،صفحہ44، دار الکتب العلمیہ ،بیروت) فتاوی یورپ میں مستحاضہ عورت کے بارے میں ہے ”قرآن پاک کی تلاوت کر سکتی ہے ،اس کو بغیر حائل کے چھو سکتی ہے ۔“ (فتاوی یورپ،صفحہ164ِ،جام نور،دہلی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.