Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #912 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11K Views

عورت کے پاس سونے کے زیورات ہوں جو نصاب کو پہنچتے ہوں تو کیا زکوۃ واجب ہوگی ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورت کے پاس سونے کے زیورات ہوں جو نصاب کو پہنچتے ہوں تو کیا زکوۃ واجب ہوگی ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عورت کے پاس سونے کے زیورات ہوں جو نصاب کو پہنچتے ہوں تو کیا زکوۃ واجب ہوگی ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی عورت کا شوہر غریب آدمی ہو مگر اس کی عورت کے پاس اتنا سونا از قسم زیورات ہو کہ وہ نصاب کو پہنچتا ہو،تو زکات کی کیا صورت ہو گی۔؟آیا شوہر پر زکات فرض ہوگی یا نہیں۔؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں ۔ بینوا وتوجروا، المستفتی ڈاکٹر محمد حنیف بفلیاز، ضلع پونچھ (جموں و کشمیر)۔ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب : زیور اگر عورت اپنے میکے سے لائی ہے تو وہ عورت کی ملک ہے، اس کی زکات عورت پر واجب ہے جبکہ نصاب کو پہنچتا ہو۔ شوہر پر ہرگز نہیں ۔اگر چہ شوہر مالدار ہو اور اس صورت میں بھی یہی حکم ہوگا، یعنی عورت پر زکات واجب ہوگی ۔جب شوہر زیور عورت کو دیکر اس کی ملک کر دے یہاں بھی وہی قید (نصاب کو پہنچتاہو) ملحوظ رہے، لیکن اگر شوہر نے زیور عورت کی ملک نہ کیا بلکہ صرف پہننے کے لیے دیا تو اس کی زکات شوہر پر واجب ہوگی، جبکہ زیور خود یا دوسرے مال سے مل کر نصاب کو پہنچتا ہو اور حاجت اصلیہ(رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، چلنے کے لیے سواریاں، خدمت کے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں، کھانے کے لیے غلہ) کے علاوہ ہو ۔ فتاوی رضویہ میں ہے” زیور کہ ملک زن ہے اس کی زکات ذمہ شوہر ہرگز نہیں اگر چہ اموال کثیرہ رکھتا ہو ۔ اور وہ زیور کہ عورت کو دیا اور اس کی ملک کردیا اس پر بھی یہی حکم ہے ۔ اور اگر ملک نہ کیا بلکہ اپنی ہی ملک میں رکھا اور عورت کو صرف پہننے کو دیا تو بیشک اس کی زکات مرد کے ذمہ ہے، جبکہ خود یا دوسرے مال سے مل کر قدر نصاب فاضل من الحاجة الاصلية ہو” (ج ۴ ص ۴۰۹/ ۴۱۰) والله تعالى اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفر لہ۔ ۲۴/رمضان المبارك ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۸/مئی ۲۰۲۰ء الجواب صحیح والمجیب نجیح۔محمد نظام الدین قادری خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی۔ 24 رمضان المبارک 1441 ھ

Kutubahu & Verified by:

<h3>عورت کے پاس سونے کے زیورات ہوں جو نصاب کو پہنچتے ہوں تو کیا زکوۃ واجب ہوگی ؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی عورت کا شوہر غریب آدمی ہو مگر اس کی عورت کے پاس اتنا سونا از قسم زیورات ہو کہ وہ نصاب کو پہنچتا ہو،تو زکات کی کیا صورت ہو گی۔؟آیا شوہر پر زکات فرض ہوگی یا نہیں۔؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں ۔ بینوا وتوجروا، المستفتی ڈاکٹر محمد حنیف بفلیاز، ضلع پونچھ (جموں و کشمیر)۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب :</strong></span> زیور اگر عورت اپنے میکے سے لائی ہے تو وہ عورت کی ملک ہے، اس کی زکات عورت پر واجب ہے جبکہ نصاب کو پہنچتا ہو۔ شوہر پر ہرگز نہیں ۔اگر چہ شوہر مالدار ہو اور اس صورت میں بھی یہی حکم ہوگا، یعنی عورت پر زکات واجب ہوگی ۔جب شوہر زیور عورت کو دیکر اس کی ملک کر دے یہاں بھی وہی قید (نصاب کو پہنچتاہو) ملحوظ رہے، لیکن اگر شوہر نے زیور عورت کی ملک نہ کیا بلکہ صرف پہننے کے لیے دیا تو اس کی زکات شوہر پر واجب ہوگی، جبکہ زیور خود یا دوسرے مال سے مل کر نصاب کو پہنچتا ہو اور حاجت اصلیہ(رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، چلنے کے لیے سواریاں، خدمت کے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں، کھانے کے لیے غلہ) کے علاوہ ہو ۔ فتاوی رضویہ میں ہے" زیور کہ ملک زن ہے اس کی زکات ذمہ شوہر ہرگز نہیں اگر چہ اموال کثیرہ رکھتا ہو ۔ اور وہ زیور کہ عورت کو دیا اور اس کی ملک کردیا اس پر بھی یہی حکم ہے ۔ اور اگر ملک نہ کیا بلکہ اپنی ہی ملک میں رکھا اور عورت کو صرف پہننے کو دیا تو بیشک اس کی زکات مرد کے ذمہ ہے، جبکہ خود یا دوسرے مال سے مل کر قدر نصاب فاضل من الحاجة الاصلية ہو" (ج ۴ ص ۴۰۹/ ۴۱۰) والله تعالى اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفر لہ۔ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۴/رمضان المبارك ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۸/مئی ۲۰۲۰ء</strong></span> <span style="color: #993366;"><strong>الجواب صحیح والمجیب نجیح۔محمد نظام الدین قادری</strong></span> <span style="color: #993366;"><strong>خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی۔</strong></span> <span style="color: #993366;"><strong>24 رمضان المبارک 1441 ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...