Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #458 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.1K Views

عِشْق کا دروازہ از سید مہتاب عالم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عِشْق کا دروازہ از سید مہتاب عالم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عِشْق کا دروازہ از سید مہتاب عالم

شیخ محمد شعراوی مصر کے بڑے عالم تھے

ایک بار جب سنہری جالیوں کو چومنے آگے بڑھے وہاں موجود شرطہ کہنے لگا

شیخ آپ اتنے بڑے عالم ہو کر یہ بدعت کر رہے ہیں

آپ ایک پتھر کو کیسے چوم سکتے ہیں جبکہ علم والے ہیں

شیخ شعراوی نے فوراً کہا

تم نے بدعت سے بچا لیا شکریہ تمہارا, مجھے اپنا سر چومنے دو کیونکہ تم نے مجھے بدعت سے بچا لیا ھے

شرطہ متذبذب ہوگیا

شیخ نے زبردستی اُسکے سر پہ موجود ٹوپی کو چوم لیا

پھر اچانک شیخ ہنسنے لگے

شرطہ کہنے لگا شیخ کیوں ہنستے ہو

فرمایا اے مسکین تم گمان کر رہے ہو میں نے تمہیں چوما ھے

شرطہ کہنے لگا شیخ آپ علامہ مفتی ہو کر یہاں حرم پاک میں مذاق کر رہے ہیں یعنی اپ نے میرا سر ہی تو چوما ھے

شیخ نے فرمایا کہ میں نے ٹوپی چومی تمہیں نہیں چوما

شرطہ کہنے لگا ٹوپی تو میرے ہی سر پر ہے نا

شیخ نے فرمایا

کیا یہ بابرکت جالیاں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی قبر مبارک کے اوپر نہیں ہیں

یعنی جیسے تمہارے سر پہ موجود ٹوپی کو چومنا تمہیں چومنا ھے ویسے ہی اِن جالیوں کو چومنا رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو چومنا ھے

یہ سن کر شرطہ بہت شرمندہ ہوا اور رونے لگا اور پھر خود آگے بڑھ جالیوں کو چومنے لگا

اللہ اللہ

کسی پہ عشق کا دروازہ لمحوں میں کھل جاتا ھے اور کسی پر ساری زندگی نہیں کھلتا

اللہ تعالی آخرت تک ہم پر عشقِ جناب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دروازہ کھولے رکھے

کبھی بند نہ فرمائے

از سید مہتاب عالم 

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">عِشْق کا دروازہ از سید مہتاب عالم</h2> <p style="direction: rtl;">شیخ محمد شعراوی مصر کے بڑے عالم تھے</p> <p style="direction: rtl;">ایک بار جب سنہری جالیوں کو چومنے آگے بڑھے وہاں موجود شرطہ کہنے لگا</p> <p style="direction: rtl;">شیخ آپ اتنے بڑے عالم ہو کر یہ بدعت کر رہے ہیں</p> <p style="direction: rtl;">آپ ایک پتھر کو کیسے چوم سکتے ہیں جبکہ علم والے ہیں</p> <p style="direction: rtl;">شیخ شعراوی نے فوراً کہا</p> <p style="direction: rtl;">تم نے بدعت سے بچا لیا شکریہ تمہارا, مجھے اپنا سر چومنے دو کیونکہ تم نے مجھے بدعت سے بچا لیا ھے</p> <p style="direction: rtl;">شرطہ متذبذب ہوگیا</p> <p style="direction: rtl;">شیخ نے زبردستی اُسکے سر پہ موجود ٹوپی کو چوم لیا</p> <p style="direction: rtl;">پھر اچانک شیخ ہنسنے لگے</p> <p style="direction: rtl;">شرطہ کہنے لگا شیخ کیوں ہنستے ہو</p> <p style="direction: rtl;">فرمایا اے مسکین تم گمان کر رہے ہو میں نے تمہیں چوما ھے</p> <p style="direction: rtl;">شرطہ کہنے لگا شیخ آپ علامہ مفتی ہو کر یہاں حرم پاک میں مذاق کر رہے ہیں یعنی اپ نے میرا سر ہی تو چوما ھے</p> <p style="direction: rtl;">شیخ نے فرمایا کہ میں نے ٹوپی چومی تمہیں نہیں چوما</p> <p style="direction: rtl;">شرطہ کہنے لگا ٹوپی تو میرے ہی سر پر ہے نا</p> <p style="direction: rtl;">شیخ نے فرمایا</p> <p style="direction: rtl;">کیا یہ بابرکت جالیاں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی قبر مبارک کے اوپر نہیں ہیں</p> <p style="direction: rtl;">یعنی جیسے تمہارے سر پہ موجود ٹوپی کو چومنا تمہیں چومنا ھے ویسے ہی اِن جالیوں کو چومنا رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو چومنا ھے</p> <p style="direction: rtl;">یہ سن کر شرطہ بہت شرمندہ ہوا اور رونے لگا اور پھر خود آگے بڑھ جالیوں کو چومنے لگا</p> <p style="direction: rtl;">اللہ اللہ</p> <p style="direction: rtl;">کسی پہ عشق کا دروازہ لمحوں میں کھل جاتا ھے اور کسی پر ساری زندگی نہیں کھلتا</p> <p style="direction: rtl;">اللہ تعالی آخرت تک ہم پر عشقِ جناب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دروازہ کھولے رکھے</p> <p style="direction: rtl;">کبھی بند نہ فرمائے</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>از سید مہتاب عالم </strong></em></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...