Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1828 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.2K Views

عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی حضور آج کے دن لوگ عید غدیر کی مبارک باد دیتے ہیں اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ المستفتی محمد آفاق رضا نان پارہ بہرائچ یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب عید غدیر روافض کی عید ہے اہل سنت کی نہیں اور روافض زمانہ اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر کافر و مرتد ہیں اور کفار و مرتدین کے کسی بھی مذہبی تہوار میں شرکت کسی طور پر جائز نہیں حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  ” مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ” (سنن ابي داؤد، كِتَاب اللِّبَاسُ، بَابٌ فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ رقم الحدیث ٤٠٣١) یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔ اور ارشاد فرمایا: “من کثر سواد قوم فھو منھم” اھ (اتحاف السادۃ المتقین، ج١٢، ص٢٤، کتاب التوحید والتوکل، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی جس نے کسی قوم کی تعداد بڑھائی وہ انہیں میں سے ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:”مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا معصیت قطعیہ ہے۔” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢١، ص١٦٦، کتاب الحظر والاباحۃ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہٰذا صورت مستفسرہ میں عید غدیر جو رافضیوں کاتہوار ہے کی مبارک باد دینا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ :محمد صدام حسین برکاتی فیضی اشرفی میرانی۔ صدر شعبہ افتاء وشیخ الحدیث میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>عید غدیر کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی حضور آج کے دن لوگ عید غدیر کی مبارک باد دیتے ہیں اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ المستفتی محمد آفاق رضا نان پارہ بہرائچ یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب</strong></span> عید غدیر روافض کی عید ہے اہل سنت کی نہیں اور روافض زمانہ اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر کافر و مرتد ہیں اور کفار و مرتدین کے کسی بھی مذہبی تہوار میں شرکت کسی طور پر جائز نہیں حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ " (سنن ابي داؤد، كِتَاب اللِّبَاسُ، بَابٌ فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ رقم الحدیث ٤٠٣١) یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔ اور ارشاد فرمایا: "من کثر سواد قوم فھو منھم" اھ (اتحاف السادۃ المتقین، ج١٢، ص٢٤، کتاب التوحید والتوکل، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی جس نے کسی قوم کی تعداد بڑھائی وہ انہیں میں سے ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:"مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا معصیت قطعیہ ہے۔" اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج٢١، ص١٦٦، کتاب الحظر والاباحۃ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہٰذا صورت مستفسرہ میں عید غدیر جو رافضیوں کاتہوار ہے کی مبارک باد دینا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <strong>کتبہ :محمد صدام حسین برکاتی فیضی اشرفی میرانی۔</strong> <strong>صدر شعبہ افتاء وشیخ الحدیث میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...