Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1184 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.8K Views

غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟

سوال : زید بالٹی وغیرہ میں غسل کرنے سے پرہیز کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ٹب میں غسل کرنے سے جسم پر پانی ڈالتے وقت استعمال شدہ پانی کے قطرے ٹب یا بالٹی میں گرتے ہیں جس سے یہ پانی پاک کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ شاور کے ذریعے غسل کیا جائے. جبکہ عمرو کا کہنا ہے کہ غسل کرتے وقت ہے جو قطرات جسم سے ٹکرانے کے بعد ٹب وغیرہ میں گرتے ہیں اس سے ٹب یا بالٹی کا پانی پاک ہی رہتا ہے اس لئے غسل کرنا درست ہے دونوں میں سے کس کے قول پر عمل کیا جائے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ عمرو کا قول صحیح کہ ٹب یا بالٹی کا پانی پاک رہتا ہے اس سے غسل کرنا درست ہے گو کہ وقت غسل مستعمل پانی کے قطرات ٹب یا بالٹی میں پڑتے ہوں اس لیے کہ مستعمل پانی اگر اچھے پانی میں مل جائے مثلا وضو یا غسل کرتے وقت قطرے لوٹے یا ٹب میں ٹپکیں تو حکم یہ ہے کہ اچھا پانی اگر زیادہ ہو تو یہ وضو اور غسل کے قابل ہے ورنہ سب بے کار ہو گیا ایسا ہی بہار شریعت جلد 2 صفحہ 49 پر ہے. در مختار میں ہے ” یرفع الحدث بماء مطلق لا بماء مغلوب کمستعمل فباالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل ” (ج١ صفحہ ١٧١) ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت ٹب یا بالٹی کا پانی مستعمل پانی سے عموما زائد ہی ہوتا ہے اس لئے اس سے وضو اور غسل جائز ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟</h2> سوال : زید بالٹی وغیرہ میں غسل کرنے سے پرہیز کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ٹب میں غسل کرنے سے جسم پر پانی ڈالتے وقت استعمال شدہ پانی کے قطرے ٹب یا بالٹی میں گرتے ہیں جس سے یہ پانی پاک کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ شاور کے ذریعے غسل کیا جائے. جبکہ عمرو کا کہنا ہے کہ غسل کرتے وقت ہے جو قطرات جسم سے ٹکرانے کے بعد ٹب وغیرہ میں گرتے ہیں اس سے ٹب یا بالٹی کا پانی پاک ہی رہتا ہے اس لئے غسل کرنا درست ہے دونوں میں سے کس کے قول پر عمل کیا جائے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عمرو کا قول صحیح کہ ٹب یا بالٹی کا پانی پاک رہتا ہے اس سے غسل کرنا درست ہے گو کہ وقت غسل مستعمل پانی کے قطرات ٹب یا بالٹی میں پڑتے ہوں اس لیے کہ مستعمل پانی اگر اچھے پانی میں مل جائے مثلا وضو یا غسل کرتے وقت قطرے لوٹے یا ٹب میں ٹپکیں تو حکم یہ ہے کہ اچھا پانی اگر زیادہ ہو تو یہ وضو اور غسل کے قابل ہے ورنہ سب بے کار ہو گیا ایسا ہی بہار شریعت جلد 2 صفحہ 49 پر ہے. در مختار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' یرفع الحدث بماء مطلق لا بماء مغلوب کمستعمل فباالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل '' (ج١ صفحہ ١٧١)</strong></span> ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت ٹب یا بالٹی کا پانی مستعمل پانی سے عموما زائد ہی ہوتا ہے اس لئے اس سے وضو اور غسل جائز ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...