Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1330 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.9K Views

غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غلہ کی خریداری کرنے والے جب چاول، گندم، مسور وغیرہ لیتے ہیں تو ہر پچاس کلو والے بوری میں سات سو پچاس گرام( 750)زائد کرکے لیتے ہیں جب صاحب دوکان سے کہو کہ سات سو پچاس گرام(750)ریادہ کیوں لیتے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ یہ غلہی دوکان کرنے والوں کا سسٹم ہے کیا یہ اصول بیع وشراء سے ہے شرعی طریقہ کیا ہے بینوا بالدليل وتوجروا. المستفتی: عبد المصطفي شیوراج نگرپالیکا 4 چنی ضلع کپل وستو تولہوا نیپال. بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ صورت مستفسرہ میں غلہ خریدنے والے پچاس کلو پر جو سات سو پچاس گرام(750) یا ایک کلو زیادہ کرکے لیتے ہیں غلے کی ماپ، تول کرنے کی اجرت ہوتی ہے اور ماپ، تول کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے اور یہ سامان بیچنے والے کے ہی ذمہ ہوتی ہے جس کا تاجروں کے یہاں عام رواج بھی ہے لہذا اس طرح وزن مذکورہ کی زیادتی کے ساتھ بیچنا اور خریدنا دونوں جائز اور موافق شرع ہے. درمختار میں ہے“واجرۃ کیل ووزن وعدّ وذرع علی بائع لانہ من تمام التسلیم” اھ (ج٧ص٩٣،کتاب البیوع) بہار شریعت میں ہے”بیع کے ماپ، تول یا گنتی کی اجرت دینی پڑے تو وہ بائع کے ذمہ ہوگی کہ ماپنا، تولنا، گننا اس کا کام ہے کہ مبیع کی تسلیم اسی طرح ہوتی ہے کہ ماپ، تول کر مشتری کو دیتے ہیں”اھ (ح١١ص٦٣٨، کتاب البیوع،مکتبۃ المدینہ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٩جمادی الثانی ١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غلہ کی خریداری کرنے والے جب چاول، گندم، مسور وغیرہ لیتے ہیں تو ہر پچاس کلو والے بوری میں سات سو پچاس گرام( 750)زائد کرکے لیتے ہیں جب صاحب دوکان سے کہو کہ سات سو پچاس گرام(750)ریادہ کیوں لیتے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ یہ غلہی دوکان کرنے والوں کا سسٹم ہے کیا یہ اصول بیع وشراء سے ہے شرعی طریقہ کیا ہے بینوا بالدليل وتوجروا. المستفتی: عبد المصطفي شیوراج نگرپالیکا 4 چنی ضلع کپل وستو تولہوا نیپال. بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب۔</strong></span> صورت مستفسرہ میں غلہ خریدنے والے پچاس کلو پر جو سات سو پچاس گرام(750) یا ایک کلو زیادہ کرکے لیتے ہیں غلے کی ماپ، تول کرنے کی اجرت ہوتی ہے اور ماپ، تول کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے اور یہ سامان بیچنے والے کے ہی ذمہ ہوتی ہے جس کا تاجروں کے یہاں عام رواج بھی ہے لہذا اس طرح وزن مذکورہ کی زیادتی کے ساتھ بیچنا اور خریدنا دونوں جائز اور موافق شرع ہے. درمختار میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"واجرۃ کیل ووزن وعدّ وذرع علی بائع لانہ من تمام التسلیم"</strong></span> اھ (ج٧ص٩٣،کتاب البیوع) بہار شریعت میں ہے"بیع کے ماپ، تول یا گنتی کی اجرت دینی پڑے تو وہ بائع کے ذمہ ہوگی کہ ماپنا، تولنا، گننا اس کا کام ہے کہ مبیع کی تسلیم اسی طرح ہوتی ہے کہ ماپ، تول کر مشتری کو دیتے ہیں"اھ (ح١١ص٦٣٨، کتاب البیوع،مکتبۃ المدینہ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٩جمادی الثانی ١٤٤٣ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...