Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1392
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.6K Views
غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید بکریوں کا کاروبار کرتاہے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر نے کی وجہ سے کچھ جانور مرجاتے ہیں تو کیا ان مرےہوئے جانوروں کو زید کسی غیر مسلم کے ہاتھوں فروخت کر سکتا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرسکتا ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ سائل حافظ محمد ضیاء الحق رضوی ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب مرے ہوئے جانور کو غیر مسلم سے بیچ کر اس کی رقم استعمال میں لانا جائز ہے. بہار شریعت میں ہے: عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔(حصہ یازدہم، ص ٧٨٠) واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٥ رجب / ١٤٤٣ – ١٧ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید بکریوں کا کاروبار کرتاہے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر نے کی وجہ سے کچھ جانور مرجاتے ہیں تو کیا ان مرےہوئے جانوروں کو زید کسی غیر مسلم کے ہاتھوں فروخت کر سکتا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرسکتا ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ سائل حافظ محمد ضیاء الحق رضوی ممبئی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> مرے ہوئے جانور کو غیر مسلم سے بیچ کر اس کی رقم استعمال میں لانا جائز ہے. بہار شریعت میں ہے: عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔(حصہ یازدہم، ص ٧٨٠) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #ff0000;"><strong>کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>١٥ رجب / ١٤٤٣ - ١٧ فروری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...