Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1709
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.5K Views
غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: زید حافظ قران ہے اور محلے کا امام بھی ہے اس نے ہندہ کا نکاح یہ جانتے ہوئے پڑھا دیا کہ یہ اہل حدیث ہے قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس نے ایک بار اور پڑھایا تھا تو اس کو ایک مفتی صاحب کا فتویٰ پڑھ کر سنایا گیا تھا لیکن اس نے اس پر عمل نہیں کیا اور پڑھا دیا اب زید پر کیا کیا حکم صادر ہوتا ہے؟ براۓ کرم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی جواب مرحمت فرمائیں: المستفتی: محمد نوری منظری الجواب: اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے فتاوی میں علمائے حرمین طیبین کے حوالہ سے جا بجا وہابیہ غیر مقلدین کی تکفیر کی ہے۔اس لیے جو ان کو مسلمان سمجھ کر ان کا نکاح پڑھائے گا خود کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کافر سمجھتے ہوئے نذرانہ وغیرہ کسی دنیاوی طمع میں نکاح پڑھایا تو گنہگار ہے اور جب وہ متعدد بار ایسا کرچکا ہے تو اس کو امام نہ بنایا جائے ۔ ہاں! سچی توبہ اور اصلاح حال کے بعد امام بنایا جاسکتا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے ” حسام الحرمین” سے ظاہر ہے۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦٧) نیز تحریر فرماتے ہیں: “اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اُس میں اُن کے موافق یا کم از کم اُن کے حامی یا اُنھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں،تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلّد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص١٧٠) اور تحریر فرماتے ہیں: “غیرمقلدین زمانہ بحکم فقہا وتصریحات عامہ کتب فقہ کافر تھے ہی، جس کا روشن بیان رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ ورسالہ السیوف ورسالہ النھی الاکید وغیرہا میں ہے اور تجربہ نے ثابت کردیا کہ وہ ضرور منکران ضروریات دین ہیں اور ان کے منکروں کے حامی وہمراہ، تویقینا قطعاً اجماعاً ان کے کفروارتداد میں شک نہیں۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص٣۵۵) اور تحریر فرماتے ہیں: “اور اگر وہابیہ کو کافرجانتا ہے تو ان سے میل جول کے باعث جس میں سب سے بدتر اُن سے پڑھنا ہے سخت فاسق ہے امامت کے قابل نہیں، نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی۔” (فتاوی رضویہ ج ۴ ص٣٧۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: زید حافظ قران ہے اور محلے کا امام بھی ہے اس نے ہندہ کا نکاح یہ جانتے ہوئے پڑھا دیا کہ یہ اہل حدیث ہے قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس نے ایک بار اور پڑھایا تھا تو اس کو ایک مفتی صاحب کا فتویٰ پڑھ کر سنایا گیا تھا لیکن اس نے اس پر عمل نہیں کیا اور پڑھا دیا اب زید پر کیا کیا حکم صادر ہوتا ہے؟ براۓ کرم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی جواب مرحمت فرمائیں: المستفتی: محمد نوری منظری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب:</strong></span> اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے فتاوی میں علمائے حرمین طیبین کے حوالہ سے جا بجا وہابیہ غیر مقلدین کی تکفیر کی ہے۔اس لیے جو ان کو مسلمان سمجھ کر ان کا نکاح پڑھائے گا خود کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کافر سمجھتے ہوئے نذرانہ وغیرہ کسی دنیاوی طمع میں نکاح پڑھایا تو گنہگار ہے اور جب وہ متعدد بار ایسا کرچکا ہے تو اس کو امام نہ بنایا جائے ۔ ہاں! سچی توبہ اور اصلاح حال کے بعد امام بنایا جاسکتا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے '' حسام الحرمین'' سے ظاہر ہے۔" (فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦٧) نیز تحریر فرماتے ہیں: "اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اُس میں اُن کے موافق یا کم از کم اُن کے حامی یا اُنھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں،تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلّد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔" (فتاوی رضویہ ج٣ص١٧٠) اور تحریر فرماتے ہیں: "غیرمقلدین زمانہ بحکم فقہا وتصریحات عامہ کتب فقہ کافر تھے ہی، جس کا روشن بیان رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ ورسالہ السیوف ورسالہ النھی الاکید وغیرہا میں ہے اور تجربہ نے ثابت کردیا کہ وہ ضرور منکران ضروریات دین ہیں اور ان کے منکروں کے حامی وہمراہ، تویقینا قطعاً اجماعاً ان کے کفروارتداد میں شک نہیں۔" (فتاوی رضویہ ج٣ص٣۵۵) اور تحریر فرماتے ہیں: "اور اگر وہابیہ کو کافرجانتا ہے تو ان سے میل جول کے باعث جس میں سب سے بدتر اُن سے پڑھنا ہے سخت فاسق ہے امامت کے قابل نہیں، نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی۔" (فتاوی رضویہ ج ۴ ص٣٧۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۵/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...