Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1338
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.7K Views
فاسق و فاجر سنی صحیح العقیدہ کا ذبیحہ جائزودرست ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
فاسق و فاجر سنی صحیح العقیدہ کا ذبیحہ جائزودرست ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
فاسق و فاجر سنی صحیح العقیدہ کا ذبیحہ جائزودرست ہے یا نہیں
سوال:فاسق و فاجر سنی صحیح العقیدہ کا ذبیحہ جائزودرست ہے یا نہیں ۔نیز ذبح کرنے کے لے مرد ہونا ضروری ہے یا عورت بھی ذبح کرسکتی ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب : فاسق وفاجر سنی صحیح العقیدہ مسلمان کا ذبیحہ بلاشبہ جائزودرست ہے کہ وہ اپنے فسق وفجور کی بنا پر اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔کہ اس کے ذبیحہ پر حرام ہونے کا قول کیا جاے ۔جیسے سنی صحیح العقیدہ مسلمان نماز نہ پڑھنے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا. البتہ بہتر یہ ہیکہ کسی عالم دین سے ذبح کرایاجاے کہ اگرچہ وہ اپنے فسق وفجور کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا مگر گنہ گار ضرور ہوتا ہے ۔ اور ذبح کرنے کے لے مرد کا ہونا ضروری نہیں عورت بھی ذبح کرسکتی ہے “فتاوی ہندیہ میں ہے ۔“المراۃ المسلمۃ والکتابیۃ فی الذبح کالرجل” (فتاوی ہندیہ ج 5 ص 286 کتاب الذبائح، الباب الاول) بہارشریعت میں ہے ” ذبح میں عورت کاوہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی مسلمہ یا کتابیہ عورت کا ذبیحہ حلال ہے اور مشرکہ و مرتدہ کا ذبیحہ حرام ہے، (بہارشریعت ج. 3 ح. 15 ص. 316 ذبح کا بیان) واللہ اعلم بالصواب . کتبہ. مفتی شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h3>فاسق و فاجر سنی صحیح العقیدہ کا ذبیحہ جائزودرست ہے یا نہیں</h3> سوال:فاسق و فاجر سنی صحیح العقیدہ کا ذبیحہ جائزودرست ہے یا نہیں ۔نیز ذبح کرنے کے لے مرد ہونا ضروری ہے یا عورت بھی ذبح کرسکتی ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب :</strong></span> فاسق وفاجر سنی صحیح العقیدہ مسلمان کا ذبیحہ بلاشبہ جائزودرست ہے کہ وہ اپنے فسق وفجور کی بنا پر اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔کہ اس کے ذبیحہ پر حرام ہونے کا قول کیا جاے ۔جیسے سنی صحیح العقیدہ مسلمان نماز نہ پڑھنے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا. البتہ بہتر یہ ہیکہ کسی عالم دین سے ذبح کرایاجاے کہ اگرچہ وہ اپنے فسق وفجور کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا مگر گنہ گار ضرور ہوتا ہے ۔ اور ذبح کرنے کے لے مرد کا ہونا ضروری نہیں عورت بھی ذبح کرسکتی ہے "فتاوی ہندیہ میں ہے ۔<span style="color: #ff0000;"><strong>"المراۃ المسلمۃ والکتابیۃ فی الذبح کالرجل"</strong></span> (فتاوی ہندیہ ج 5 ص 286 کتاب الذبائح، الباب الاول) بہارشریعت میں ہے " ذبح میں عورت کاوہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی مسلمہ یا کتابیہ عورت کا ذبیحہ حلال ہے اور مشرکہ و مرتدہ کا ذبیحہ حرام ہے، (بہارشریعت ج. 3 ح. 15 ص. 316 ذبح کا بیان) واللہ اعلم بالصواب . <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ. مفتی شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...