Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1455 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.5K Views

فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی جماعت ہو رہی ہے کسی کو اتنا وقت نہیں ملا کہ سنت فجر پڑھ سکے فورا جماعت میں شامل ہو گیا. جماعت ہونے کے بعد طلوع آفتاب کے تیس منٹ باقی ہیں. اب جس کی فجر کی سنت رہ گئی تھی وہ طلوع آفتاب سے پہلے ادا کرے گا یا طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد؟ بینوا و توجروا الجوابـــــــــــــــــــــ صرف فجر کی سنت فوت ہوئی تو ان کی فضا آفتاب بلند ہونے کے بیس منٹ بعد نصف النہار شرعی سے پہلے پڑھ سکتا ہے. طلوع آفتاب سے پہلے ان کی قضا کرنا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک ناجائز و گناہ ہے. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 618 میں ہے. اور حدیث شریف میں ہے ” حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” الصلاۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس ولا بعد العصر حتی تغرب الشمس “ (بخاری شریف جلد اول صفحہ 82) اور حضرت علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ” لا تقضی قبل الطلوع ولا بعد الزوال” (شامی جلد اول صفحہ 499) لہذا طلوع آفتاب کے بیس منٹ بعد اپنی چھوٹی ہوئی سنتوں کو پڑھنا چاہے پڑھ لے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد عبد الحی قادری

Kutubahu & Verified by:

<h2>فجر کی سنت رہ گئی ہے تو اسے کب پڑھے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی جماعت ہو رہی ہے کسی کو اتنا وقت نہیں ملا کہ سنت فجر پڑھ سکے فورا جماعت میں شامل ہو گیا. جماعت ہونے کے بعد طلوع آفتاب کے تیس منٹ باقی ہیں. اب جس کی فجر کی سنت رہ گئی تھی وہ طلوع آفتاب سے پہلے ادا کرے گا یا طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد؟ بینوا و توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> صرف فجر کی سنت فوت ہوئی تو ان کی فضا آفتاب بلند ہونے کے بیس منٹ بعد نصف النہار شرعی سے پہلے پڑھ سکتا ہے. طلوع آفتاب سے پہلے ان کی قضا کرنا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک ناجائز و گناہ ہے. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 618 میں ہے. اور حدیث شریف میں ہے " حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا<span style="color: #ff0000;"><strong>" الصلاۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس ولا بعد العصر حتی تغرب الشمس "</strong> </span>(بخاری شریف جلد اول صفحہ 82) اور حضرت علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں <span style="color: #ff0000;"><strong>" لا تقضی قبل الطلوع ولا بعد الزوال"</strong> </span>(شامی جلد اول صفحہ 499) لہذا طلوع آفتاب کے بیس منٹ بعد اپنی چھوٹی ہوئی سنتوں کو پڑھنا چاہے پڑھ لے. واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد عبد الحی قادری</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...