Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1288 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.6K Views

فجر کی قضا اگر زوال سے پہلے کرے تو سنت کی بھی قضا کرے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

فجر کی قضا اگر زوال سے پہلے کرے تو سنت کی بھی قضا کرے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

فجر کی قضا اگر زوال سے پہلے کرے تو سنت کی بھی قضا کرے

سوال : حضور فقیہ ملت نور اللہ مرقدہ و دیگر مصنفین اپنی کتب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اجالا ہو جانے سے فجر کا وقت شروع ہوتا ہے اور سورج نکلنے سے پہلے تک رہتا ہے جبکہ طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد یا زوال سے پہلے جب نماز فجر پڑھنا چاہے تو غالبا حکم یہ ہے کہ فجر کی سنت و فرض دونوں پڑھی جائے حالانکہ دیگر نمازوں میں ختم اوقات کے بعد پڑھی جانے والی نماز میں صرف فرض یا وتر کی قضا پڑھی جاتی ہے تو ایسا کیوں؟ اور قبل زوال جو نماز فجر پڑھی جائے اگر اسی دن کی فجر ہے تو کیا قضا یا ادا کی نیت کی جائے گی؟ باعتبار محررہ مذکورہ نماز کی کسی طرح زبان سے نیت کریں گے عرض یہ ہے کہ آسان لفظوں میں واضح فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــــــ جب کسی کی نماز فجر قضا ہو جائے اور زوال سے پہلے اسے ادا کرنا چاہے تو حکم یہی ہے کہ فرض کے ساتھ ساتھ سنت کی بھی قضا کرے اور دوسرے اوقات کی نماز فوت ہو جائے تو صرف فرض اور وتر کی قضا پڑھنے کا حکم ہے سنتوں کی قضا نہیں ہے. اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت قریب بواجب ہے اس لیے اگر زوال سے پہلے ادا کی جائے تو فرض کے ساتھ سنت کی بھی قضا پڑھنے کا حکم ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے ” سنۃ الفجر قیل انھا قریبۃ من الواجب کذا فی التتار خانیۃ ناقلا عن النافع ” جلد ١ صفحہ ١١٢ الباب التاسع فی النوافل) نیز سرکار علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسا ہی ثابت ہے. فوت شدہ نماز فجر کی قضا اسی دن زوال سے پہلے پڑھی جائے تو بھی قضا کی نیت کی جائے گی اور ادا کی نیت کرلی پھر بھی قضا ہی ہوگی نہ کہ ادا. رد المحتار میں ہے ” یصح القضاء بنیۃ الاداء ” (ج ١ صفحہ ٤٢٢ مطلب یصح القضاء بنیۃ الاداء) اور نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں مگر زبان سے کہنا مستحب ہے. زبان سے کرنا چاہے تو اس طرح نیت کرے نیت کی میں نے آج کی دو رکعت نماز فرض فجر قضا کی واسطے اللہ تعالی کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر. اور سنت فجر کی نیت اس طرح کرے کہ نیت کی میں نے آج کی دو رکعت نماز سنت فجر قضا کی اللہ تعالی کے لیے سنت رسول کی منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر. اگر آج کی قضا ہے تو آج کی دو رکعت کہیں گے اور کل کی ہو تو کل گذشتہ کی دو رکعت. در مختار میں ہے ” النیۃ وھی الارادۃ المرجحۃ لاحد المتساویین والمعتبر فیھا عمل القلب اللازم للارادۃ، والتلفظ عند الارادۃ بھا مستحب ھو المختار، (فوق رد المحتار جلد صفحہ ٤١٤ بحث النیۃ) واللہ تعالی اعلم . الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی

Kutubahu & Verified by:

<h2>فجر کی قضا اگر زوال سے پہلے کرے تو سنت کی بھی قضا کرے</h2> سوال : حضور فقیہ ملت نور اللہ مرقدہ و دیگر مصنفین اپنی کتب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اجالا ہو جانے سے فجر کا وقت شروع ہوتا ہے اور سورج نکلنے سے پہلے تک رہتا ہے جبکہ طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد یا زوال سے پہلے جب نماز فجر پڑھنا چاہے تو غالبا حکم یہ ہے کہ فجر کی سنت و فرض دونوں پڑھی جائے حالانکہ دیگر نمازوں میں ختم اوقات کے بعد پڑھی جانے والی نماز میں صرف فرض یا وتر کی قضا پڑھی جاتی ہے تو ایسا کیوں؟ اور قبل زوال جو نماز فجر پڑھی جائے اگر اسی دن کی فجر ہے تو کیا قضا یا ادا کی نیت کی جائے گی؟ باعتبار محررہ مذکورہ نماز کی کسی طرح زبان سے نیت کریں گے عرض یہ ہے کہ آسان لفظوں میں واضح فرمائیں. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> جب کسی کی نماز فجر قضا ہو جائے اور زوال سے پہلے اسے ادا کرنا چاہے تو حکم یہی ہے کہ فرض کے ساتھ ساتھ سنت کی بھی قضا کرے اور دوسرے اوقات کی نماز فوت ہو جائے تو صرف فرض اور وتر کی قضا پڑھنے کا حکم ہے سنتوں کی قضا نہیں ہے. اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت قریب بواجب ہے اس لیے اگر زوال سے پہلے ادا کی جائے تو فرض کے ساتھ سنت کی بھی قضا پڑھنے کا حکم ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' سنۃ الفجر قیل انھا قریبۃ من الواجب کذا فی التتار خانیۃ ناقلا عن النافع '' جلد ١ صفحہ ١١٢ الباب التاسع فی النوافل)</strong></span> نیز سرکار علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسا ہی ثابت ہے. فوت شدہ نماز فجر کی قضا اسی دن زوال سے پہلے پڑھی جائے تو بھی قضا کی نیت کی جائے گی اور ادا کی نیت کرلی پھر بھی قضا ہی ہوگی نہ کہ ادا. رد المحتار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' یصح القضاء بنیۃ الاداء ''</strong></span> (ج ١ صفحہ ٤٢٢ مطلب یصح القضاء بنیۃ الاداء) اور نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں مگر زبان سے کہنا مستحب ہے. زبان سے کرنا چاہے تو اس طرح نیت کرے نیت کی میں نے آج کی دو رکعت نماز فرض فجر قضا کی واسطے اللہ تعالی کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر. اور سنت فجر کی نیت اس طرح کرے کہ نیت کی میں نے آج کی دو رکعت نماز سنت فجر قضا کی اللہ تعالی کے لیے سنت رسول کی منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر. اگر آج کی قضا ہے تو آج کی دو رکعت کہیں گے اور کل کی ہو تو کل گذشتہ کی دو رکعت. <span style="color: #ff0000;"><strong>در مختار میں ہے '' النیۃ وھی الارادۃ المرجحۃ لاحد المتساویین والمعتبر فیھا عمل القلب اللازم للارادۃ، والتلفظ عند الارادۃ بھا مستحب ھو المختار، (فوق رد المحتار جلد صفحہ ٤١٤ بحث النیۃ)</strong></span> واللہ تعالی اعلم . الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...