Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1047
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8K Views
فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟
سوال : منفرد نے نماز ظہر فرض پڑھی تین رکعتوں کو بھری پڑھی، چوتھی رکعت میں سورت نہیں ملائی رکوع و سجود کر کے نماز پوری کرلی تو اس کی نماز ادا ہوئی کی نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ منفرد کی نماز بلاکراہت ادا ہوگی اس لیے کہ اسے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا جائز ہے. نہ واجب ہے نہ مکروہ. لہذا دونوں رکعتوں میں ملائے یا ایک میں بہر صورت جائز ہے. البتہ صاحب حلیہ نے خلاف اولی کا افادہ فرمایا ہے. اور خلاف اولی وہ ہے کہ جس کا نہ کرنا بہتر اور کیا تو کچھ مضائقہ نہیں. بلکہ بعض ائمہ نے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانے کو مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے. اور ظاہراً یہ استحباب صرف منفرد کے لئے ہے امام کے لیے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گزرے تو حرام ہے. در مختار میں ہے ضم سورۃ في الاولين من الفرض و هل يكره في الاخرين المختار لا. اور رد المحتار جلد اول ص 308 میں ہے في البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ في الاخریين نفلا وفي الذخيرۃ انه المختار وفي المحيط وهو الاصح والظاهر ان المراد بقوله نفلا الجواز والمشروعيۃ بمعنى عدم الحرمۃ فلا ينافي كونه خلاف الاولى كما افاده في الحليۃ ١ھ واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 242
Kutubahu & Verified by:
<h2>فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟</h2> سوال : منفرد نے نماز ظہر فرض پڑھی تین رکعتوں کو بھری پڑھی، چوتھی رکعت میں سورت نہیں ملائی رکوع و سجود کر کے نماز پوری کرلی تو اس کی نماز ادا ہوئی کی نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> منفرد کی نماز بلاکراہت ادا ہوگی اس لیے کہ اسے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا جائز ہے. نہ واجب ہے نہ مکروہ. لہذا دونوں رکعتوں میں ملائے یا ایک میں بہر صورت جائز ہے. البتہ صاحب حلیہ نے خلاف اولی کا افادہ فرمایا ہے. اور خلاف اولی وہ ہے کہ جس کا نہ کرنا بہتر اور کیا تو کچھ مضائقہ نہیں. بلکہ بعض ائمہ نے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانے کو مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے. اور ظاہراً یہ استحباب صرف منفرد کے لئے ہے امام کے لیے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گزرے تو حرام ہے. در مختار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>ضم سورۃ في الاولين من الفرض و هل يكره في الاخرين المختار لا.</strong></span> اور رد المحتار جلد اول ص 308 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>في البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ في الاخریين نفلا وفي الذخيرۃ انه المختار وفي المحيط وهو الاصح والظاهر ان المراد بقوله نفلا الجواز والمشروعيۃ بمعنى عدم الحرمۃ فلا ينافي كونه خلاف الاولى كما افاده في الحليۃ ١ھ</strong></span> واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 242</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...