فرض کی تیسری رکعت میں بھول کر التحیات پڑھ دیا تو کیا حکم ہے
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
فرض کی تیسری رکعت کے قیام میں التحیات پڑھ دیا تو کیا حکم یے
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ ظہر فرض کی تیسری رکعت کے لیے قعدہ اولی سے کھڑا ہوکر امام نےبھول کر [تیسری رکعت ]میں التحيات آدھی یا پوری پڑھ دی اب اسے یاد آیا تو اس کی نماز صحیح ہو جائے گی یا اسے سجدہ سہو کرنا پڑے گا؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ مأجور ہوں اور ناچیز کو شکریہ کا موقع عطا فرمائیں.
المستفتی :جہانگیر علیمی دھولیہ مہاراشٹر الجواب :غالبا سائل کی مراد یہ ہے کہ قعدہ اولی میں تحیات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت میں حالت قیام میں آدھی یا پوری تحیات پڑھی ۔ اگر یہی مراد ہے تو یہ عمل مکروہ تنزیہی ہے جس سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا ہے ۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ محمد امجد علی علییہ الرحمہ کچھ مکروہات تحریر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں : “یہاں تک تو وہ مکروہات بیان ہوئے جن کا مکروہ تحریمی ہونا کتب معتبرہ میں مذکور ہے، بلکہ اسی پر اعتماد کیا ہے، اب بعض دیگر مکروہات بیان کیے جاتے ہیں کہ ان میں اکثر کا مکروہ تنزیہی ہونا مصرح ہے ۔ اور بعض میں اختلاف ہے، مگر راجح تنزیہی ہے ۔ ” (بہار شریعت حصہ سوم مکروہات کا بیان )
پھر آگے متعدد مکروہات شمار کرنے کے بعد فرماتے ہیں:”اذکار نماز کو ان کی جگہ سے ہٹا کر پڑھنا،مکروہ ہے” (بہار شریعت حصہ سوم’ مکروہات کابیان) بہار شریعت کے مذکورہ بالا اقتباس سے واضح ہے کہ نماز میں اگر اذکار اپنے متعینہ مقام پر نہ کیے گیے بلکہ اس سے منتقل ہونے کے بعد کیے گیے تو ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ اور بھول سے مکروہ تنزیہی ہوجائے تو اس سے سجدہ سہو لازم نہیں ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے :” ویکرہ الجھر بالتسمیة والتامین واتمام القراء ة فی الرکوع والاذکاربعد الانتقال ۔ “(فتاوی عالم گیری ج١ص١٠٧)
واللہ تعالی سبحانہ اعلم۔
کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔
ا٠/شعبان المعظم ١۴۴٢ھ//۴/اپریل٢٠٢١ء
مزید سوالا ت اس نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے سے پوچھے جا سکتے ہیں ۔
موبائیل نمبر ۸۷۹۵۹۷۹۳۸۳