Ref #14
Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1345
Verified Hanafi Fiqh
13.5K Views
فرض کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانے کا حکم
Font:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
فرض کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانے کا حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
فرض کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانے کا حکم
السلام علیکم ورحمةالله وبركاته زیدچار رکعتی فرض نماز پڑھ رہا تھا، تیسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بسم اللہ شریف پڑھ دی، پھرخیال آیا کہ میں توفرض نماز پڑھ رہا ہوں اب رکوع میں چلاگیا،کبھی چوتھی رکعت میں بھی ایساہی ہوا۔ اب سوال یہ ہیکہ ایسی صورت میں زید کی نماز کا عند الشرع کیا حکم ہے؟ بحوالہ جواب عنایت فرما کر مشکور ہوں۔ والسلام المستفتی: محمدعامراعظمگڑھ الجوابــــــــــــــــــــــــــ چار رکعت والی فرض نماز کی تیسری رکعت میں اگر سورہ فاتحہ کے بعد بسم اللہ کے ساتھ سہواً پوری سورہ بھی پڑھ لے تو نماز میں کوئی خلل نہیں ہے، بلکہ قصداً سورہ ملانے پر بھی نماز میں کوئی کراہت نہیں ہے، لیکن نہ ملانا افضل ہے۔ ہاں! امام کے لیے فرض کی تیسری رکعت میں سورہ ملانا مکروہ ہے اور اگر مقتدیوں کو گراں گزرے تو حرام۔ امام سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز سے درج ذیل سوال ہوا: “ایک شخص نماز فرض پڑھتا ہے اور اس نے سہواً پچھلی دو رکعت میں بھی بعد الحمد کے ایک ایک سورت پڑھی، بعدہ سلام پھیرا۔ اب اس کی نماز فرض ہوئی یا سنت ؟ جیسا ہو ویسا ہی ارقام فرمائیے۔ اور اگر وہ سجدہ سہو کرلیتا تو کیا اس کی نماز فرض ہوجاتی یا نہیں؟ تو آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا: “فرض ہوئی اور نماز میں کچھ خلل نہ آیا ، نہ اس پر سجدہ سہو تھا، بلکہ اگر قصداً بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ صرف خلاف اولٰی ہے، بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔ فقیر کے نزدیک ظاہراً یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گذرے تو حرام۔”۔ درمختار میں ہے:ضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وھل یکرہ فی الاخریین المختار لا۔ ردالمحتار میں ہے : ای لایکرہ تحریما، بل تنزیھا؛ لانہ خلاف السنۃ، قال فی المنیۃ وشرحھا: فان ضم السورۃ الی الفاتحۃ ساھیا یجب علیہ سجدتا السھو فی قول ابی یوسف لتاخیر الرکوع عن محلہ، وفی اظھر الروایات لا یجب؛ لان القراءۃ فیھا مشروعۃ من غیر تقدیر، والاقتصار علی الفاتحۃ مسنو ن لا واجب اھ وفی البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ فی الاخریین نفلا، وفی الذخیرہ انہ المختار، وفی المحیط وھو الاصح اھ والظاھر ان المراد بقولہ نفلا الجواز،والمشروعیۃ بمعنی عدم الحرمۃ فلا ینافی کونہ خلاف الاولی کما افادہ فی الحلیۃاھ ما فی ردالمحتار اقول: لفظ الحلیۃ ثم الظاھر اباحتھا، کیف لا! وقد تقدم من حدیث ابی سعید الخدری رضی ﷲ تعالٰی عنہ فی صحیح مسلم وغیرہ انہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقرافی صلٰوۃ الظھر فی الرکعتین الاولین قدر ثلثین اٰیۃ وفی الاخریین قدر خمسۃ عشرۃ اٰیۃ اوقال نصف ذلک فلا جرم ان قال فخر الاسلام فی شرح الجامع الصغیر: واما السورۃ فانھا مشروعۃ نفلا فی الاخریین، حتی قلنا فی من قرأ فی الاخریین لم یلزمہ سجدۃ سھو انتھی، ثم یمکن ان یقال الاولٰی عدم الزیادۃ ویحمل علی الخروج مخرج البیان لذلک حدیث ابی قتادۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہ ( یرید ما قدم بروایۃ الصحیحین ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقرأ فی الظھر فی الاولیین بام القراٰن وسورتین وفی الرکعتین الاخریین بام الکتاب الحدیث) وقول المصنف المذکور ( ای ولایزید علیھا شیأ) وقول غیر واحد من المشائخ کما فی الکافی وغیرہ: ویقرأ فیھما بعدالاولیین الفاتحۃ فقط۔ ویحمل علی بیان مجرد الجواز حدیث ابی سعید رضی ﷲ تعالٰی عنہ وقول فخر الاسلام؛ فان النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یفعل الجائز فقط فی بعض الاحیان تعلیما للجواز وغیرہ من غیر کراھۃ فی حقہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم، کما یفعل الجائز الاولی فی غالب الاحوال، والفعل لاینافی عدم الاولویۃ فیند فع بھذا ماعساہ یخال من المخالفۃ بین الحدیثین المذکورین وبین اقوال المشائخ” (فتاوی رضویہ ج ٣ص٦٣٧ ، ٦٣٨) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٨/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/١٠/فروری ٢٠٢٢ء ۔
Kutubahu & Verified by: