Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #348 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.2K Views

فون پر طلاق کے شرعی احکام از مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

فون پر طلاق کے شرعی احکام از مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

فون پر طلاق کے شرعی احکام

سوال : ایک شوہر نے اپنی بیوی کو موبائل پر طلاقیں دینا شروع کیں تو جب دو طلاقیں دیں تو بیوی نے موبائل بند کر دیا اور شوہر نے کال ختم کے بعد تیسری طلاق بھی دیدی لیکن اس تیسری طلاق کو بیوی نے نہیں سنا تو کیا تیسری طلاق ہوگئی ہے ؟

سائل : عبداللہ پنجاب پاکستان

بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب ،اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

مذکورہ صورت میں دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے، لہٰذا جب تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں تو حلالہ شرعیہ کے بغیر عورت اس شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی کیونکہ طلاق دیتے وقت بیوی کا طلاق کو سننا یا گواہوں کا سننا یا موجود ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ طلاق بالکل تنہائی میں دی تو تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

“فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ”

ترجمہ : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔

(پارہ 2، سورۃالبقرہ : 230)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

”طلاق کے لیے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضرور نہیں، جبکہ شوہر نے اپنی زبان سے الفاظِ طلاق ایسی آواز سے کہے، جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے (اگرچہ کسی غل شور یا ثقلِ سماعت کے سبب نہ پہنچے) عنداللہ طلاق ہو گئی۔ عورت کو خبر ہو تو وہ بھی اپنے آپ کو مطلّقہ جانے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 362، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مزید ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں :

”شوہرِ اول طلاق دینے کا مُقِر (اقرار کرتا) ہے مگر عذر صرف یہ کرتا ہے کہ طلاق خفیہ دی، چار اشخاص کے سامنے نہ دی، لہٰذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہونا سمجھتا ہے اگر ایسا ہے تو اس کا دعویٰ غلط باطل ہے، طلاق بالکل تنہائی میں دے، جب بھی ہو جاتی ہے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 366، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

نوٹ :

حلالہ شرعیہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت پوری ہو جانے کے بعد وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاحِ صحیح کرے اور دوسرا شوہر اس سے صحبت کرنے کے بعد اسے طلاق دیدے یا دوسرا شوہر صحبت کرنے کے بعد فوت ہوجائے تو عورت پہلی صورت عدتِ طلاق اور دوسری صورت میں عدتِ وفات گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔

چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

“فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَا”

ترجمہ : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔

(پارہ 2، سورۃالبقرہ : 230)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

تصدیق و تصحیح :

الجواب صحيح

فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">فون پر طلاق کے شرعی احکام</h2> <p style="direction: rtl;">سوال : ایک شوہر نے اپنی بیوی کو موبائل پر طلاقیں دینا شروع کیں تو جب دو طلاقیں دیں تو بیوی نے موبائل بند کر دیا اور شوہر نے کال ختم کے بعد تیسری طلاق بھی دیدی لیکن اس تیسری طلاق کو بیوی نے نہیں سنا تو کیا تیسری طلاق ہوگئی ہے ؟</p> <p style="direction: rtl;">سائل : عبداللہ پنجاب پاکستان</p> <p style="direction: rtl;">بسمہ تعالیٰ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوھّاب ،اللھم ھدایۃ الحق و الصواب</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">مذکورہ صورت میں دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے، لہٰذا جب تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں تو حلالہ شرعیہ کے بغیر عورت اس شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی کیونکہ طلاق دیتے وقت بیوی کا طلاق کو سننا یا گواہوں کا سننا یا موجود ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ طلاق بالکل تنہائی میں دی تو تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :</p> <p style="direction: rtl;">"فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ"</p> <p style="direction: rtl;">ترجمہ : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(پارہ 2، سورۃالبقرہ : 230)</strong></p> <p style="direction: rtl;">سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">”طلاق کے لیے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضرور نہیں، جبکہ شوہر نے اپنی زبان سے الفاظِ طلاق ایسی آواز سے کہے، جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے (اگرچہ کسی غل شور یا ثقلِ سماعت کے سبب نہ پہنچے) عنداللہ طلاق ہو گئی۔ عورت کو خبر ہو تو وہ بھی اپنے آپ کو مطلّقہ جانے۔“</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 362، رضا فاؤنڈیشن لاہور)</strong></p> <p style="direction: rtl;">مزید ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">”شوہرِ اول طلاق دینے کا مُقِر (اقرار کرتا) ہے مگر عذر صرف یہ کرتا ہے کہ طلاق خفیہ دی، چار اشخاص کے سامنے نہ دی، لہٰذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہونا سمجھتا ہے اگر ایسا ہے تو اس کا دعویٰ غلط باطل ہے، طلاق بالکل تنہائی میں دے، جب بھی ہو جاتی ہے۔“</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 366، رضا فاؤنڈیشن لاہور)</strong></p> <p style="direction: rtl;">نوٹ :</p> <p style="direction: rtl;">حلالہ شرعیہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت پوری ہو جانے کے بعد وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاحِ صحیح کرے اور دوسرا شوہر اس سے صحبت کرنے کے بعد اسے طلاق دیدے یا دوسرا شوہر صحبت کرنے کے بعد فوت ہوجائے تو عورت پہلی صورت عدتِ طلاق اور دوسری صورت میں عدتِ وفات گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :</p> <p style="direction: rtl;"><strong>"فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَا"</strong></p> <p style="direction: rtl;">ترجمہ : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔</p> <p style="direction: rtl;">(پارہ 2، سورۃالبقرہ : 230)</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>تصدیق و تصحیح :</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب صحيح</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...