Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1111 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.2K Views

قالین اور کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قالین اور کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قالین اور کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں نرم فرش پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟ آج کل کشمیر میں اکثر مساجد میں فوم کا فرش بچھا ہوا ہوتا ہے اور اس کے یعنی فوم کے اوپر ٹاٹ یا وال ٹو وال(Wall to Wall) یا کمبل یا قالین یا نمدہ وغیرہ لگایا جاتا ہے جس سے فرش نرم پڑ جاتا ہے اور سجدہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اس پر نماز درست ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نرم فرش مثلا قالین ،کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا اس وقت جائز ہے جب اس پر ناک اور پیشانی خوب اچھے طریقے سے جم جائے یعنی اتنا دب جائے کہ اب دبانے سے نہ دبے ورنہ نہیں. اور جب سجدہ نہیں ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی کیونکہ سجدہ فرائض نماز سے ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے : لو سجد علی الحشیش اوالتبن او علی القطن او الطنفسۃ او الثلج ان استقرت جبھتہ وانفہ ویجد حجمہ یجوز وان لم تستقر لا ” ١ھ (صفحہ ٧٠ جلد ١) ایسا ہی بہارشریعت صفحہ ٧١ حصہ سوم میں بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــہ : مفتی غلام نبی النظامی العلیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>قالین اور کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں نرم فرش پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟ آج کل کشمیر میں اکثر مساجد میں فوم کا فرش بچھا ہوا ہوتا ہے اور اس کے یعنی فوم کے اوپر ٹاٹ یا وال ٹو وال(Wall to Wall) یا کمبل یا قالین یا نمدہ وغیرہ لگایا جاتا ہے جس سے فرش نرم پڑ جاتا ہے اور سجدہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اس پر نماز درست ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> نرم فرش مثلا قالین ،کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا اس وقت جائز ہے جب اس پر ناک اور پیشانی خوب اچھے طریقے سے جم جائے یعنی اتنا دب جائے کہ اب دبانے سے نہ دبے ورنہ نہیں. اور جب سجدہ نہیں ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی کیونکہ سجدہ فرائض نماز سے ہے. <span style="color: #ff0000;"><strong>فتاوی ہندیہ میں ہے : لو سجد علی الحشیش اوالتبن او علی القطن او الطنفسۃ او الثلج ان استقرت جبھتہ وانفہ ویجد حجمہ یجوز وان لم تستقر لا '' ١ھ (صفحہ ٧٠ جلد ١)</strong></span> ایسا ہی بہارشریعت صفحہ ٧١ حصہ سوم میں بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی غلام نبی النظامی العلیمی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...