Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1796
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.9K Views
قبرستان میں جانور باندھنا نیز،ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کتنے بھری کا ہوتا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قبرستان میں جانور باندھنا نیز،ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کتنے بھری کا ہوتا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قبرستان میں جانور باندھنا نیز،ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کتنے بھری کا ہوتا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلوں کے بارے میں 1۔ قبرستان میں جانور باندھنا کیسا ہے ? 2۔ ساڑھےسات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کتنے بھری کا ہوتا ہے۔ بالتفصیل جواب دے کر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔ الســائل: محـمـد رفـاقت حسـین بنـگال اتـر دینـاجپـور الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں جانور کو قبرستان میں باندھنا،چرانا ہرگز جائز نہیں۔ جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے قبرستان میں جوگھاس اگتی ہے جب تک سبز (یعنی ہری) ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کے لیے بھی بیچ سکتے ہیں مگر جانوروں کو قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقا حرام ہے۔ قبروں کی بےادبی ہے مذہب اسلام کی توہین ہے کھلی مذہبی دست اندازی ہے۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ٤٩٢،پر ہے۔ اور اس طرح بہارشریعت جلد چہارم صفحہ١٦٧ پر بھی۔ اور ردالمحتار جلد دوم صفحہ ٢٤٥ پر ہے ۔ “يكره قطع النبات الرطب من المقبرة دون اليابس. اه” اور فتاوی عالمگیری جلد دوم صفحہ ٤٧١ پر ہے ۔ “لو كان فيها حشيش يحش و يرسل إلى الدواب و لا ترسل الدواب فيها كذا في البحر الرائق. اه” اور ایسا ہی فتاوی قاضی خاں جلد سوم صفحہ ٣١٤،پر ہے۔ لہذا اگر قبرستان کی گھاس سوکھ گئی ہے تو اسے کاٹ کر جانوروں وغیرہ کے لیے لے جا سکتے ہیں ۔ لیکن اس میں جانوروں کو چرانا اور کھونٹا گاڑنا پھر اس میں بکریوں کو باندھنا اور اس کی ہری گھاسوں کو کاٹ لے جانا ہرگز جائزنہیں۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کی گھاس کاٹنے والوں اور اس میں جانور باندھنے والوں و چرانے والوں کو روکیں، اگر وہ اس سے باز نہ آئیں تو ان کا مکمل طور سے سخت سماجی بائیکاٹ کریں۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے: “و إما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين.” (پارہ 7،سورۂ انعام، آیت ٦٨)۔ ایسا ہی فتاوی فقیہ ملت میں ہے (فتاوی فقیہ ملت معروف بہ فتاوی مرکز تربیت افتاء، جلد دوم، ص، ١٨٦، مطبوعہ، شبیر برادرز، لاہور) ٢— جامعۃالرضا” بریلی شریف کے حساب کے لحاظ سے ساڑھے سات تولہ سونا کا جدید وزن ٩٣/ گرام ٣١٢/ ملی گرام ہوتا ہے ، اور ساڑھے باون تولہ چاندی کا وزن ٦٥٣/ گرام ١٨٤ /ملی گرام ہوتا ہے۔ (منتخب فتاوی،ص،٢٢) نــــــــوٹ:- فقیر حقیر سراپا تقصیر کی ناقص معلومات کے مطابق (ایک بھری )کا وزن ١٠ ، گرام ہوتا ہے ، ویسے آپ جوہری کے دوکان سے پتہ کر لیں تو زیا دہ بہتر رہیگا ،نیز” ١٠”گرام کے لحاظ سے محاسبہ، موازنہ کر سکتے ہیں ۔ واللــہ تعالیٰ اعلـم بالصــواب کتبـــــہ:حضرت علامہ مولانا محمد منظــــورا لقــادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج
Kutubahu & Verified by:
<h3>قبرستان میں جانور باندھنا نیز،ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کتنے بھری کا ہوتا ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلوں کے بارے میں 1۔ قبرستان میں جانور باندھنا کیسا ہے ? 2۔ ساڑھےسات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کتنے بھری کا ہوتا ہے۔ بالتفصیل جواب دے کر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔ الســائل: محـمـد رفـاقت حسـین بنـگال اتـر دینـاجپـور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب </strong></span> صورت مسئولہ میں جانور کو قبرستان میں باندھنا،چرانا ہرگز جائز نہیں۔ جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے قبرستان میں جوگھاس اگتی ہے جب تک سبز (یعنی ہری) ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کے لیے بھی بیچ سکتے ہیں مگر جانوروں کو قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقا حرام ہے۔ قبروں کی بےادبی ہے مذہب اسلام کی توہین ہے کھلی مذہبی دست اندازی ہے۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ٤٩٢،پر ہے۔ اور اس طرح بہارشریعت جلد چہارم صفحہ١٦٧ پر بھی۔ اور ردالمحتار جلد دوم صفحہ ٢٤٥ پر ہے ۔ "يكره قطع النبات الرطب من المقبرة دون اليابس. اه" اور فتاوی عالمگیری جلد دوم صفحہ ٤٧١ پر ہے ۔ "لو كان فيها حشيش يحش و يرسل إلى الدواب و لا ترسل الدواب فيها كذا في البحر الرائق. اه" اور ایسا ہی فتاوی قاضی خاں جلد سوم صفحہ ٣١٤،پر ہے۔ لہذا اگر قبرستان کی گھاس سوکھ گئی ہے تو اسے کاٹ کر جانوروں وغیرہ کے لیے لے جا سکتے ہیں ۔ لیکن اس میں جانوروں کو چرانا اور کھونٹا گاڑنا پھر اس میں بکریوں کو باندھنا اور اس کی ہری گھاسوں کو کاٹ لے جانا ہرگز جائزنہیں۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کی گھاس کاٹنے والوں اور اس میں جانور باندھنے والوں و چرانے والوں کو روکیں، اگر وہ اس سے باز نہ آئیں تو ان کا مکمل طور سے سخت سماجی بائیکاٹ کریں۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے: "و إما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين." (پارہ 7،سورۂ انعام، آیت ٦٨)۔ ایسا ہی فتاوی فقیہ ملت میں ہے (فتاوی فقیہ ملت معروف بہ فتاوی مرکز تربیت افتاء، جلد دوم، ص، ١٨٦، مطبوعہ، شبیر برادرز، لاہور) ٢--- جامعۃالرضا" بریلی شریف کے حساب کے لحاظ سے ساڑھے سات تولہ سونا کا جدید وزن ٩٣/ گرام ٣١٢/ ملی گرام ہوتا ہے ، اور ساڑھے باون تولہ چاندی کا وزن ٦٥٣/ گرام ١٨٤ /ملی گرام ہوتا ہے۔ (منتخب فتاوی،ص،٢٢) نــــــــوٹ:- فقیر حقیر سراپا تقصیر کی ناقص معلومات کے مطابق (ایک بھری )کا وزن ١٠ ، گرام ہوتا ہے ، ویسے آپ جوہری کے دوکان سے پتہ کر لیں تو زیا دہ بہتر رہیگا ،نیز" ١٠"گرام کے لحاظ سے محاسبہ، موازنہ کر سکتے ہیں ۔ واللــہ تعالیٰ اعلـم بالصــواب <span style="color: #339966;">کتبـــــہ:حضرت علامہ مولانا محمد منظــــورا لقــادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج</span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...