01
The questionSawaal
اصل سوالقبرپر اگربتی جلانے کا کیا شرعی حکم ہے؟
02
The responseAl-Jawab
قبرپر اگربتی جلانے کا کیا شرعی حکم ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبرپر اگربتی جلانے کا کیا شرعی حکم ہے؟ المستفتی محمد سلیم ضلع لیہ *وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ* الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب (قبر پر موم بتی یا اگر بتی جلانا جائز نہیں ہے کہ قبر پر آگ جلانے سے میت کو تکلیف ہوتی ہےجو لوگ قبر پر موم بتی و اگر بتی جلا کر چلے جاتے ہیں یہ فضول خرچی ہے جو کہ ناجائز و گناہ ہے اس سے میت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتاالبتہ قبر سے ہٹ کر جہاں قبریں نہ ہوں تو وہاں کسی مقصد خیر کے سبب موم بتی یا اگر بتی جلاناجائزو مستحسن ہے: (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، قبرپر اگربتی ، یالوبان وغیرہ قبرپر رکھ کر جلانے سےاحتراز چاہیے، قریب قبر سلگانا اگروہاں نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئ تالی ، یاذاکر، ہوبلکہ صرف قبرکےلئے جلاکرچلاآئے توظاہر منع ہے کہ اسراف واضاعت مال ہے اوراگر بالغرض حاضرین وقت فاتحہ خوانی یاتلاوت قرآن عظیم وذکرالہی سلگائیں توبہتر ومستحسن ہے: *(فتاویٰ رضویہ قدیم 4صفحہ ۱۴۱)* *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.