Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1260 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.5K Views

قبر میں منکر اور نکیر دونوں سوال کرتے ہیں یا ایک ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قبر میں منکر اور نکیر دونوں سوال کرتے ہیں یا ایک ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قبر میں منکر اور نکیر دونوں سوال کرتے ہیں یا ایک ؟

سوال :منکر و نکیر قبر میں سوال كرنے کےلئے آتے ہیں تو کیا دونوں لوگ سوال کرتے ہیں یا ایک اگر ایک فرشتہ سوال کرتا ہے تو دوسرے کی کیا ضرورت ہے ایک ہی کافی ہے سائل:مولاناحیدرامدادی ثقافی ، کپل وستو ، نيپال. الجواب بعون الملک الوھاب اللہ رب العزت قادر مطلق ہے اس کا ہرفعل کمال وخوبی والا ہے اس کے ہرکام میں حکمت ہے وہ چاہے قبر میں ایک فرشتہ کو سوال کےلئے مقرر فرمائے یا دو کو کسی بندے کو ہرگز یہ حق نہیں کہ یہ سوال کرے کہ قبرمیں ایک فرشتہ سوال کرتا ہے تو دوسرے کی کیا ضرورت۔ لہذا سائل کو اس طرز سوال سے احتراز کرنا چاہئے ۔ باقی رہا یہ سوال کہ دونوں فرشتے سوال کرتے ہیں یا ایک تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں دو فرشتوں کے اور بعض میں ایک کے سوال کرنےکاذکر ہے امام قرطبی تحریرفرماتے ہیں : “جاء فی حدیث البخاری ومسلم سوال الملکین وکذالک فی حدیث الترمذی ونص علی اسمیھما ونعتیھما وجاء فی حدیث ابی داؤد سوال ملک واحد وفی حدیثہ الاخرسوال ملکین” (کتاب التذکرۃ باحوال الموتی وامور الآخرۃ ، ص: 357) یعنی بخاری ومسلم کی حدیث میں دوفرشتوں کے سوال کرنے کاذکر ہے ایسے ہی حدیث ترمذي میں بھی ہے اور ان کے نام و صفت کو بیان کیا گیا ہے اور ابوداؤد کی حدیث میں ایک فرشتے کے سوال کرنےکا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں دوفرشتوں کےسوال کرنے کا پھر آپ نے خود ہی ان حدیثوں میں تطبیق کی صورت یوں بیان فرمائی ہے: “ولاتعارض فی ذلک والحمد للہ بل کل ذلک صحیح المعنی بالنسبت الی الاشخاص فرب شخص یاتیانہ جمیعا فی حال واحد عند انصراف الناس عنہ لیکون السوال علیہ اھول وافتنۃ اشد فی حقہ واعظم وذلک بحسب مااقترف من الاثام واجترح من سیی الاعمال وآخر یاتیانہ قبل انصراف الناس عنہ وآخر یاتیہ احدھما علی الانفراد فیکون ذلک اخف فی السوال واقل فی المراجعۃ والعتاب والجواب لما عملہ من صالح الاعمال وقد یحتمل حدیث ابی داؤد وجھا آخر وھوان الملکین یاتیانہ جمیعا ویکون السائل احدھما وان تشارکا فی الاتیان فیکون الراوی اقتصر علی الملک السائل وترک غیرہ لانہ لم یقل فی الحدیث انہ لایاتیہ الی قبرہ الاملک واحد ولوقالہ ھکذا صریحا لکان الجواب عنہ مابیناہ من احوال الناس واللہ اعلم وقد یکون من الناس من یوقی فتنتھما ولا یاتیہ واحد منھما” (ایضا) یعنی الحمد للہ ان میں کوئی تعارض نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کے اعتبار سے ہے کسی کے پاس ایک فرشتہ آتاہے اور کسی کے پاس دونوں ایک ساتھ آتے ہیں اور لوگوں کے جاتے ہی ایک ساتھ سوالات کرتے ہیں تاکہ اس کے گناہوں لے حساب سے اس پر گھبراہٹ طاری ہوجائے اور کسی کے پاس لوگوں کے جانے سے پہلے آتے ہیں تاکہ لوگوں سے انسیت کی وجہ سے اس پرآسانی رہے ، کسی کے پاس ایک ہی فرشتہ آتاہے تاکہ اس پر نرمی ہو اور اس کے نیک اعمال کے سبب جوابات میں آسانی رہے یہ بھی احتمال ہیکہ فرشتے تو دوہی آتے ہوں لیکن سوال ایک کرتا ہو اس معنی پر جن روایتوں میں ایک کا ذکر ہے دوہی پر محمول ہوگی ۔ امام جلال الدین السیوطی فرماتے ہیں: “میں کہتا ہوں یہ دوسرا معنی ہی درست ہے کیونکہ اکثر احادیث میں دوفرشتوں کاذکر موجود ہے” (شرح الصدور مترجم ص : 258) حاشیہ شرح عقائد میں ہے: “فان ظھر عن المیت اثر الاسلام سال عنہ المنکر وان ظھر عنہ الکفر سالہ النکیر” (ص: 77 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی حاشیہ 10) یعنی مردہ میں اگر اسلامی اثر ظاہر ہوتا ہے تو اس سے “منکر” سوالات کرتے ہیں ۔اور اگر اس میں کفر کی علامت ظاہر ہوتی ہے تواس سے” نکیر”سوالات کرتے ہیں۔ والله تعالي اعلم الجواب صحیح مفتي محمد ارشد حسين فیضی کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>قبر میں منکر اور نکیر دونوں سوال کرتے ہیں یا ایک ؟</h2> سوال :منکر و نکیر قبر میں سوال كرنے کےلئے آتے ہیں تو کیا دونوں لوگ سوال کرتے ہیں یا ایک اگر ایک فرشتہ سوال کرتا ہے تو دوسرے کی کیا ضرورت ہے ایک ہی کافی ہے سائل:مولاناحیدرامدادی ثقافی ، کپل وستو ، نيپال. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اللہ رب العزت قادر مطلق ہے اس کا ہرفعل کمال وخوبی والا ہے اس کے ہرکام میں حکمت ہے وہ چاہے قبر میں ایک فرشتہ کو سوال کےلئے مقرر فرمائے یا دو کو کسی بندے کو ہرگز یہ حق نہیں کہ یہ سوال کرے کہ قبرمیں ایک فرشتہ سوال کرتا ہے تو دوسرے کی کیا ضرورت۔ لہذا سائل کو اس طرز سوال سے احتراز کرنا چاہئے ۔ باقی رہا یہ سوال کہ دونوں فرشتے سوال کرتے ہیں یا ایک تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں دو فرشتوں کے اور بعض میں ایک کے سوال کرنےکاذکر ہے امام قرطبی تحریرفرماتے ہیں : <span style="color: #ff0000;"><strong>"جاء فی حدیث البخاری ومسلم سوال الملکین وکذالک فی حدیث الترمذی ونص علی اسمیھما ونعتیھما وجاء فی حدیث ابی داؤد سوال ملک واحد وفی حدیثہ الاخرسوال ملکین" (کتاب التذکرۃ باحوال الموتی وامور الآخرۃ ، ص: 357)</strong></span> یعنی بخاری ومسلم کی حدیث میں دوفرشتوں کے سوال کرنے کاذکر ہے ایسے ہی حدیث ترمذي میں بھی ہے اور ان کے نام و صفت کو بیان کیا گیا ہے اور ابوداؤد کی حدیث میں ایک فرشتے کے سوال کرنےکا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں دوفرشتوں کےسوال کرنے کا <span style="color: #ff0000;"><strong>پھر آپ نے خود ہی ان حدیثوں میں تطبیق کی صورت یوں بیان فرمائی ہے: "ولاتعارض فی ذلک والحمد للہ بل کل ذلک صحیح المعنی بالنسبت الی الاشخاص فرب شخص یاتیانہ جمیعا فی حال واحد عند انصراف الناس عنہ لیکون السوال علیہ اھول وافتنۃ اشد فی حقہ واعظم وذلک بحسب مااقترف من الاثام واجترح من سیی الاعمال وآخر یاتیانہ قبل انصراف الناس عنہ وآخر یاتیہ احدھما علی الانفراد فیکون ذلک اخف فی السوال واقل فی المراجعۃ والعتاب والجواب لما عملہ من صالح الاعمال وقد یحتمل حدیث ابی داؤد وجھا آخر وھوان الملکین یاتیانہ جمیعا ویکون السائل احدھما وان تشارکا فی الاتیان فیکون الراوی اقتصر علی الملک السائل وترک غیرہ لانہ لم یقل فی الحدیث انہ لایاتیہ الی قبرہ الاملک واحد ولوقالہ ھکذا صریحا لکان الجواب عنہ مابیناہ من احوال الناس واللہ اعلم وقد یکون من الناس من یوقی فتنتھما ولا یاتیہ واحد منھما" (ایضا)</strong></span> یعنی الحمد للہ ان میں کوئی تعارض نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کے اعتبار سے ہے کسی کے پاس ایک فرشتہ آتاہے اور کسی کے پاس دونوں ایک ساتھ آتے ہیں اور لوگوں کے جاتے ہی ایک ساتھ سوالات کرتے ہیں تاکہ اس کے گناہوں لے حساب سے اس پر گھبراہٹ طاری ہوجائے اور کسی کے پاس لوگوں کے جانے سے پہلے آتے ہیں تاکہ لوگوں سے انسیت کی وجہ سے اس پرآسانی رہے ، کسی کے پاس ایک ہی فرشتہ آتاہے تاکہ اس پر نرمی ہو اور اس کے نیک اعمال کے سبب جوابات میں آسانی رہے یہ بھی احتمال ہیکہ فرشتے تو دوہی آتے ہوں لیکن سوال ایک کرتا ہو اس معنی پر جن روایتوں میں ایک کا ذکر ہے دوہی پر محمول ہوگی ۔ امام جلال الدین السیوطی فرماتے ہیں: "میں کہتا ہوں یہ دوسرا معنی ہی درست ہے کیونکہ اکثر احادیث میں دوفرشتوں کاذکر موجود ہے" (شرح الصدور مترجم ص : 258) حاشیہ شرح عقائد میں ہے: "فان ظھر عن المیت اثر الاسلام سال عنہ المنکر وان ظھر عنہ الکفر سالہ النکیر" (ص: 77 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی حاشیہ 10) یعنی مردہ میں اگر اسلامی اثر ظاہر ہوتا ہے تو اس سے "منکر" سوالات کرتے ہیں ۔اور اگر اس میں کفر کی علامت ظاہر ہوتی ہے تواس سے" نکیر"سوالات کرتے ہیں۔ والله تعالي اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح مفتي محمد ارشد حسين فیضی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...