Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1694
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.7K Views
قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل میں کہ قبر پر جو پودے اگ آتے ہیں ان کو کیا کیا جائے، کاٹ دیں یا چھوڑ دیں، رہنمائی فرمائیں. عبدالقدوس وسئی ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب ہرے پودے جو قبر پر ہوں ان کو کاٹنا منع ہے، لیکن اگر اس کی جڑ سے قبر یا مردے کو نقصان پہنچے تو کاٹ دینا چاہیے،یوں ہی اگر خشک ہو جائے تو بھی کاٹنے میں حرج نہیں. قرآن مجید میں ہے : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(الاسراء:۴۴) ردالمحتار میں ہے : یکرہ قطع النبات الرطب و الحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر و الدرر و شرح المنیۃ، و عللہ فی الامداد بانہ ما دام رطباً یسبح اللہ تعالیٰ فیؤنس المیت و تنزل بذکرہ الرحمۃ، ونحوہ فی الخانیۃ۔۔۔ لان فیہ تفویت حق المیت“ (ج ٣ ص ١٨٤) مراقی الفلاح میں ہے : وکرہ قلع الحشیش الرطب وکذا الشجر من المقبرة؛ لأنہ ما دام رطبًا یسبِّح اللّٰہ تعالیٰ فیونس المیت وتنزل بذکر اللّٰہ تعالیٰ الرحمة، ولا بأس بقلع الیابس منہا أی الحشیش والشجر لزوال المقصود۔ (مراقی الفلاح، فصل فی زیارة القبور،ص ۳۴۲) فتاوی رضویہ میں ہے : قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تک سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقاً حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہے، مذہب اسلام کی توہین ہے، کھلی مذہبی دست اندازی ہے، ردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیـہ اورامداد الفتاح اورفتاوٰی قاضیخان سے ہے: یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس. قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشک کاٹنا مکروہ نہیں۔(فتاوی رضویہ مترجم جلد ۱۶ صفحہ ٩١) بہارِ شریعت میں ہے: ”قبر پر سے تر گھاس نوچنا نہ چاہیے کہ اس کی تسبیح سے رحمت اترتی ہے اور میت کو انس ہوتا ہے اور نوچنے میں میت کا حق ضائع کرنا ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد ١ صفحہ ٨٥٢ مکتبہ المدینہ دعوت اسلامی کراچی ) فتاوی فیض الرسول میں ہے : ہرے پودے جو خاص قبر پر ہوں ان کی شاخوں کو کاٹنا منع ہے کہ ان کی تسبیح سے مُردہ کو فائدہ پہنچتا ہے۔ کما فی رد المحتار(جزئیہ اوپر مذکور ہے)لیکن اگر پودے کی جڑ سے قبر یا مردے کو نقصان پہنچے تو کاٹ دئیے جائیں۔“ (فتاوی فیض الرسول ١/ ٤٧٣) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٦ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٨اپریل ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم</h2> کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل میں کہ قبر پر جو پودے اگ آتے ہیں ان کو کیا کیا جائے، کاٹ دیں یا چھوڑ دیں، رہنمائی فرمائیں. عبدالقدوس وسئی ممبئی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> ہرے پودے جو قبر پر ہوں ان کو کاٹنا منع ہے، لیکن اگر اس کی جڑ سے قبر یا مردے کو نقصان پہنچے تو کاٹ دینا چاہیے،یوں ہی اگر خشک ہو جائے تو بھی کاٹنے میں حرج نہیں. قرآن مجید میں ہے : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(الاسراء:۴۴) ردالمحتار میں ہے : یکرہ قطع النبات الرطب و الحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر و الدرر و شرح المنیۃ، و عللہ فی الامداد بانہ ما دام رطباً یسبح اللہ تعالیٰ فیؤنس المیت و تنزل بذکرہ الرحمۃ، ونحوہ فی الخانیۃ۔۔۔ لان فیہ تفویت حق المیت“ (ج ٣ ص ١٨٤) مراقی الفلاح میں ہے : وکرہ قلع الحشیش الرطب وکذا الشجر من المقبرة؛ لأنہ ما دام رطبًا یسبِّح اللّٰہ تعالیٰ فیونس المیت وتنزل بذکر اللّٰہ تعالیٰ الرحمة، ولا بأس بقلع الیابس منہا أی الحشیش والشجر لزوال المقصود۔ (مراقی الفلاح، فصل فی زیارة القبور،ص ۳۴۲) فتاوی رضویہ میں ہے : قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تک سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقاً حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہے، مذہب اسلام کی توہین ہے، کھلی مذہبی دست اندازی ہے، ردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیـہ اورامداد الفتاح اورفتاوٰی قاضیخان سے ہے: یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس. قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشک کاٹنا مکروہ نہیں۔(فتاوی رضویہ مترجم جلد ۱۶ صفحہ ٩١) بہارِ شریعت میں ہے: ”قبر پر سے تر گھاس نوچنا نہ چاہیے کہ اس کی تسبیح سے رحمت اترتی ہے اور میت کو انس ہوتا ہے اور نوچنے میں میت کا حق ضائع کرنا ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد ١ صفحہ ٨٥٢ مکتبہ المدینہ دعوت اسلامی کراچی ) فتاوی فیض الرسول میں ہے : ہرے پودے جو خاص قبر پر ہوں ان کی شاخوں کو کاٹنا منع ہے کہ ان کی تسبیح سے مُردہ کو فائدہ پہنچتا ہے۔ کما فی رد المحتار(جزئیہ اوپر مذکور ہے)لیکن اگر پودے کی جڑ سے قبر یا مردے کو نقصان پہنچے تو کاٹ دئیے جائیں۔“ (فتاوی فیض الرسول ١/ ٤٧٣) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٦ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٨اپریل ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...