Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1608
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.5K Views
قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پرسبز ٹہنی یا پھول ڈالنا کیا حدیث سےثابت ہے؟؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب قبر پر سبز ٹہنی یا پھول ڈالنا جائزہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے: حدیث شریف :حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ فرمایا: إِنَّهُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَکَانَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَةِ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِیدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا بِنِصْفَیْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِی کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ یُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا. یعنی ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا، ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو حصے کیے۔ پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ یہ کیوں کیا؟ فرمایا کہ شاید ان کے عذاب میں تخفیف رہے جب تک یہ سوکھ نہ جائیں: (بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز، باب الجرید علی القبر، 1: 458، رقم:1295) امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: إِنَّ الْمَعْنَی فِیهِ أَنَّهُ یُسَبِّحُ مَا دَامَ رَطْبًا فَیَحْصُلُ التَّخْفِیفُ بِبَرَکَةِ التَّسْبِیحِ وَعَلَی هَذَا فَیَطَّرِدُ فِی کُلِّ مَا فِیهِ رُطُوبَةٌ مِنَ الْأَشْجَارِ وَغَیْرِهَا وَکَذَلِکَ فِیمَا فِیهِ برکَة کَالذِّکْرِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ مِنْ بَابِ الْأَوْلَی. مطلب یہ کہ جب تک ٹہنیاں (پھول، پتیاں، گھاس) سر سبز رہیں گی، ان کی تسبیح کی برکت سے عذاب میں کمی ہوگی بنابریں درخت وغیرہ جس جس چیز میں تری ہے (گھاس، پھول وغیرہ) یونہی بابرکت چیز جیسے ذکر، تلاوت قرآن کریم، بطریق اولیٰ باعث برکت و تخفیف ہیں، وھو اولی ان ینتفع من غیرہ اس حدیث پاک کا زیادہ حق ہے کہ بجائے کسی اور کے اس کی پیروی کی جائے: (عسقلانی، فتح الباری، 1: 320) واللہ و ر سولہ اعلم بالصواب
Kutubahu & Verified by:
<h2>قبر پر سبز ٹہنی ڈالنا کیسا ہے ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پرسبز ٹہنی یا پھول ڈالنا کیا حدیث سےثابت ہے؟؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> قبر پر سبز ٹہنی یا پھول ڈالنا جائزہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے: حدیث شریف :حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ فرمایا: إِنَّهُمَا لَیُعَذَّبَانِ، وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَکَانَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَةِ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِیدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا بِنِصْفَیْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِی کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ یُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا. یعنی ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا، ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو حصے کیے۔ پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ یہ کیوں کیا؟ فرمایا کہ شاید ان کے عذاب میں تخفیف رہے جب تک یہ سوکھ نہ جائیں: (بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز، باب الجرید علی القبر، 1: 458، رقم:1295) امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: إِنَّ الْمَعْنَی فِیهِ أَنَّهُ یُسَبِّحُ مَا دَامَ رَطْبًا فَیَحْصُلُ التَّخْفِیفُ بِبَرَکَةِ التَّسْبِیحِ وَعَلَی هَذَا فَیَطَّرِدُ فِی کُلِّ مَا فِیهِ رُطُوبَةٌ مِنَ الْأَشْجَارِ وَغَیْرِهَا وَکَذَلِکَ فِیمَا فِیهِ برکَة کَالذِّکْرِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ مِنْ بَابِ الْأَوْلَی. مطلب یہ کہ جب تک ٹہنیاں (پھول، پتیاں، گھاس) سر سبز رہیں گی، ان کی تسبیح کی برکت سے عذاب میں کمی ہوگی بنابریں درخت وغیرہ جس جس چیز میں تری ہے (گھاس، پھول وغیرہ) یونہی بابرکت چیز جیسے ذکر، تلاوت قرآن کریم، بطریق اولیٰ باعث برکت و تخفیف ہیں، وھو اولی ان ینتفع من غیرہ اس حدیث پاک کا زیادہ حق ہے کہ بجائے کسی اور کے اس کی پیروی کی جائے: (عسقلانی، فتح الباری، 1: 320) واللہ و ر سولہ اعلم بالصواب
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...