Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #373 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.2K Views

قرات سری اور جہری میں کیا حکمت ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قرات سری اور جہری میں کیا حکمت ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قرات سری اور جہری میں کیا حکمت ہے ؟

سوال : ظہر وعصر میں آہستہ اور مغرب، عشا وفجر میں جہری قراءت کی وجہ ؟ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟

سائل : محمد نعمان

ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ

الجواب بعون الملک الوہاب :

پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.

رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں ۔

اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی ۔

جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی ۔

” والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]

واللہ تعالٰی اعلم.

کتبہ : مولانا فیضان سرور مصباحی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">قرات سری اور جہری میں کیا حکمت ہے ؟</h2> <p style="direction: rtl;">سوال : ظہر وعصر میں آہستہ اور مغرب، عشا وفجر میں جہری قراءت کی وجہ ؟ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟</p> <p style="direction: rtl;">سائل : محمد نعمان</p> <p style="direction: rtl;">ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ</p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب :</strong></p> <p style="direction: rtl;">پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.</p> <p style="direction: rtl;">رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں ۔</p> <p style="direction: rtl;">اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی ۔</p> <p style="direction: rtl;">جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی ۔</p> <p style="direction: rtl;">" والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالٰی اعلم.</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مولانا فیضان سرور مصباحی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...