Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #719 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.9K Views

قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟

سوال : زید نے اپنی پھوپھی کو ایک ہزار روپے قرض دیا لیکن اس نے قرض کی رقم واپس نہیں کی کیونکہ اس وقت تو اس کی حیثیت دینے کے لائق نہیں ہے زید نے سوچا کہ وہ پیسہ زکوۃ کے طور پر اسے دے دوں توکیا اس سے زیادہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرض کے طور پر دیا تھا اور اب زکوۃ کی نیت کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے زکوٰۃ ایک عبادت ہے جس طرح نماز ایک عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لئے وقت ادا نیت عبادت ضروری ہے اور یہاں تو وقت ادا نیت قرض تھی ۔ اگر کوئی نماز کی طرح اٹھک بیٹھک کرے اور نماز کی نیت نہ کرے تو اس کی نماز نہ ہوگی. اسی طرح سے کوئی رقم کسی محتاج فقیر کو دے دے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کرے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور جس وقت دیا تھا اس وقت اس کی نیت زکوٰۃ کی نہ تھی اس لئے اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ ہاں اگر زیادہ چاہتا ہے کہ وہ روپیہ زکوۃ میں شمار ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پھوپھی کو اپنے پاس سے زکوۃ کی نیت سے زکوٰۃ کا دوسرا مال دے دے اور جب پھوپھی اس پر قبضہ کرلے تو وہ ادائے قرض کی نیت سے زید کو واپس کر دے اور اگر وہ واپس نہ کرے تو زید اس کے ہاتھ سے اپنے قرض کی وصولی میں لے سکتا ہے اس طریقے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور اسے قرض کا روپیہ بھی مل جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : زید نے اپنی پھوپھی کو ایک ہزار روپے قرض دیا لیکن اس نے قرض کی رقم واپس نہیں کی کیونکہ اس وقت تو اس کی حیثیت دینے کے لائق نہیں ہے زید نے سوچا کہ وہ پیسہ زکوۃ کے طور پر اسے دے دوں توکیا اس سے زیادہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرض کے طور پر دیا تھا اور اب زکوۃ کی نیت کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے زکوٰۃ ایک عبادت ہے جس طرح نماز ایک عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لئے وقت ادا نیت عبادت ضروری ہے اور یہاں تو وقت ادا نیت قرض تھی ۔ اگر کوئی نماز کی طرح اٹھک بیٹھک کرے اور نماز کی نیت نہ کرے تو اس کی نماز نہ ہوگی. اسی طرح سے کوئی رقم کسی محتاج فقیر کو دے دے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کرے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور جس وقت دیا تھا اس وقت اس کی نیت زکوٰۃ کی نہ تھی اس لئے اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ ہاں اگر زیادہ چاہتا ہے کہ وہ روپیہ زکوۃ میں شمار ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پھوپھی کو اپنے پاس سے زکوۃ کی نیت سے زکوٰۃ کا دوسرا مال دے دے اور جب پھوپھی اس پر قبضہ کرلے تو وہ ادائے قرض کی نیت سے زید کو واپس کر دے اور اگر وہ واپس نہ کرے تو زید اس کے ہاتھ سے اپنے قرض کی وصولی میں لے سکتا ہے اس طریقے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور اسے قرض کا روپیہ بھی مل جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...