Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #719
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.9K Views
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
سوال : زید نے اپنی پھوپھی کو ایک ہزار روپے قرض دیا لیکن اس نے قرض کی رقم واپس نہیں کی کیونکہ اس وقت تو اس کی حیثیت دینے کے لائق نہیں ہے زید نے سوچا کہ وہ پیسہ زکوۃ کے طور پر اسے دے دوں توکیا اس سے زیادہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرض کے طور پر دیا تھا اور اب زکوۃ کی نیت کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے زکوٰۃ ایک عبادت ہے جس طرح نماز ایک عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لئے وقت ادا نیت عبادت ضروری ہے اور یہاں تو وقت ادا نیت قرض تھی ۔ اگر کوئی نماز کی طرح اٹھک بیٹھک کرے اور نماز کی نیت نہ کرے تو اس کی نماز نہ ہوگی. اسی طرح سے کوئی رقم کسی محتاج فقیر کو دے دے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کرے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور جس وقت دیا تھا اس وقت اس کی نیت زکوٰۃ کی نہ تھی اس لئے اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ ہاں اگر زیادہ چاہتا ہے کہ وہ روپیہ زکوۃ میں شمار ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پھوپھی کو اپنے پاس سے زکوۃ کی نیت سے زکوٰۃ کا دوسرا مال دے دے اور جب پھوپھی اس پر قبضہ کرلے تو وہ ادائے قرض کی نیت سے زید کو واپس کر دے اور اگر وہ واپس نہ کرے تو زید اس کے ہاتھ سے اپنے قرض کی وصولی میں لے سکتا ہے اس طریقے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور اسے قرض کا روپیہ بھی مل جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : زید نے اپنی پھوپھی کو ایک ہزار روپے قرض دیا لیکن اس نے قرض کی رقم واپس نہیں کی کیونکہ اس وقت تو اس کی حیثیت دینے کے لائق نہیں ہے زید نے سوچا کہ وہ پیسہ زکوۃ کے طور پر اسے دے دوں توکیا اس سے زیادہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرض کے طور پر دیا تھا اور اب زکوۃ کی نیت کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے زکوٰۃ ایک عبادت ہے جس طرح نماز ایک عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لئے وقت ادا نیت عبادت ضروری ہے اور یہاں تو وقت ادا نیت قرض تھی ۔ اگر کوئی نماز کی طرح اٹھک بیٹھک کرے اور نماز کی نیت نہ کرے تو اس کی نماز نہ ہوگی. اسی طرح سے کوئی رقم کسی محتاج فقیر کو دے دے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کرے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور جس وقت دیا تھا اس وقت اس کی نیت زکوٰۃ کی نہ تھی اس لئے اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ ہاں اگر زیادہ چاہتا ہے کہ وہ روپیہ زکوۃ میں شمار ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پھوپھی کو اپنے پاس سے زکوۃ کی نیت سے زکوٰۃ کا دوسرا مال دے دے اور جب پھوپھی اس پر قبضہ کرلے تو وہ ادائے قرض کی نیت سے زید کو واپس کر دے اور اگر وہ واپس نہ کرے تو زید اس کے ہاتھ سے اپنے قرض کی وصولی میں لے سکتا ہے اس طریقے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور اسے قرض کا روپیہ بھی مل جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...