Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1580 Verified Hanafi Fiqh 11.2K Views

قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم

سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 25 ہزار روپیہ قرض دیا ہے اور بکر ابھی قرض واپس نہیں کیا ہے، کرے گا بھی تو ایک یا دو سال میں کرے گا، تو کیا زید نے جو قرض دیا ہے ان روپیوں کی بھی زکوٰۃ زید پر فرض ہے یا قرض ملنے کے بعد فرض ہوگی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ العارض: محمد سعید علیمی . ساکن: بسڈیلہ پوسٹ چائی کلاں ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب  جو مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے “جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر”(ج ۴ ص ۴۳۲) اس ارشاد سے واضح ہوا کہ اگر زید مالک نصاب ہے تو اس نے جو قرض ۲۵ ہزار روپیہ دیا ہے اس کی زکاۃ فرض ہے البتہ ادا کرنا اس وقت ضروری ہے جب وہ روپیہ مل جائے۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: محمد اختر حسین قادری صدر شعبۂ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضئ شہر ضلع خلیل آباد یوپی انڈیا ۱۹ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم</h2> سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 25 ہزار روپیہ قرض دیا ہے اور بکر ابھی قرض واپس نہیں کیا ہے، کرے گا بھی تو ایک یا دو سال میں کرے گا، تو کیا زید نے جو قرض دیا ہے ان روپیوں کی بھی زکوٰۃ زید پر فرض ہے یا قرض ملنے کے بعد فرض ہوگی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ العارض: محمد سعید علیمی . ساکن: بسڈیلہ پوسٹ چائی کلاں ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ باسمہ تعالی و تقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب </strong></span> جو مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے "جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر"(ج ۴ ص ۴۳۲) اس ارشاد سے واضح ہوا کہ اگر زید مالک نصاب ہے تو اس نے جو قرض ۲۵ ہزار روپیہ دیا ہے اس کی زکاۃ فرض ہے البتہ ادا کرنا اس وقت ضروری ہے جب وہ روپیہ مل جائے۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد اختر حسین قادری </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر شعبۂ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضئ شہر ضلع خلیل آباد یوپی انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۱۹ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: