Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1659
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.6K Views
قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے
کیا فرماتے ہیں ،علماء کرام ، و مفتیان عظام ، مسئلہ ذیل میں: کہ زید ، خالد، بکر وغیرہ لکڑی کا کاروبار کرتے ہیں، مثلا کسان سے لکڑی خریدتے ہیں 550 میں۔ پھر فیکٹری میں بطور ادھار فروخت کر دیتے ہیں 650 میں ۔ اسکے بعد لکڑی کی پرچی کسی اور کو فروخت کر دیتے ہیں600 میں۔ تو اس طریقہ سے منافع لینا درست ہے یا نہیں؟ المستفتی : محمد مرتضیٰ رامپوری الجواب لکڑی کا کاروبار کرنے والوں کا کسانوں سے پانچ سو پچاس میں خرید کر فیکٹری والوں سے چھ سو پچاس کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ 650 والی لکڑی کی پرچی دے کر 600 روپیہ لینا اور پھر اس پرچی لینے والے کا فیکٹری سے 650 وصول کرنا سودی معاملہ اور ناجائز و حرام ہے؛ کیوں کہ در حقیقت یہاں اس پرچی کی خریداری کسی کا مقصود نہیں ہوتی۔بلکہ600 دے کر پرچی لینے والے نے یہ 600 روپیہ قرض دیا ہے، اور یہ قرض دینے والا قرض لینے والے سے اپنے 600 قرض کے بدلے وہ 650 روپیہ وصول کرے گا جو اس قرض لینے والے کا فیکٹری کے ذمہ باقی ہے۔اور حدیث شریف کے فرمان کے مطابق قرض دے کر نفع اٹھانا سود اور حرام ہے۔رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “کل قرض جرّ منفعة فھو ربا”۔(کنز العمال ٦ /۲۳۸) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔٢٦/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ //٣٠/مارچ ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>قرض دے کر زیادہ وصول کرنا سود اور حرام ہے</h2> کیا فرماتے ہیں ،علماء کرام ، و مفتیان عظام ، مسئلہ ذیل میں: کہ زید ، خالد، بکر وغیرہ لکڑی کا کاروبار کرتے ہیں، مثلا کسان سے لکڑی خریدتے ہیں 550 میں۔ پھر فیکٹری میں بطور ادھار فروخت کر دیتے ہیں 650 میں ۔ اسکے بعد لکڑی کی پرچی کسی اور کو فروخت کر دیتے ہیں600 میں۔ تو اس طریقہ سے منافع لینا درست ہے یا نہیں؟ المستفتی : محمد مرتضیٰ رامپوری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> لکڑی کا کاروبار کرنے والوں کا کسانوں سے پانچ سو پچاس میں خرید کر فیکٹری والوں سے چھ سو پچاس کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ 650 والی لکڑی کی پرچی دے کر 600 روپیہ لینا اور پھر اس پرچی لینے والے کا فیکٹری سے 650 وصول کرنا سودی معاملہ اور ناجائز و حرام ہے؛ کیوں کہ در حقیقت یہاں اس پرچی کی خریداری کسی کا مقصود نہیں ہوتی۔بلکہ600 دے کر پرچی لینے والے نے یہ 600 روپیہ قرض دیا ہے، اور یہ قرض دینے والا قرض لینے والے سے اپنے 600 قرض کے بدلے وہ 650 روپیہ وصول کرے گا جو اس قرض لینے والے کا فیکٹری کے ذمہ باقی ہے۔اور حدیث شریف کے فرمان کے مطابق قرض دے کر نفع اٹھانا سود اور حرام ہے۔رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کل قرض جرّ منفعة فھو ربا"۔(کنز العمال ٦ /۲۳۸) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔٢٦/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ //٣٠/مارچ ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...