Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1077 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.5K Views

قسط پر سامان بیچنے میں قیمت بڑھا کر بیچنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قسط پر سامان بیچنے میں قیمت بڑھا کر بیچنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قسط پر سامان بیچنے میں قیمت بڑھا کر بیچنا کیسا ہے ؟

سوال : زید ریڈیو ٹیلیویژن ٹائپ اور دیگر الکٹرک کے سامان کی تجارت کرتا ہے اور ہمہ اقسام کے سامان قسط وار دیتا ہے اور اس طرح پیسہ لیتا ہے کہ ایک ریڈیو٣٠٠ تین سو روپیہ کا دیتا ہے جس میں اس کو دس روپیہ ملتے ہیں لیکن جب ہفتہ بھر میں پورا پیسہ بھرنے کے لیے گراہک لے جاتا ہے تو تین سو کے اوپر ٢٥ روپیہ اور بڑھا دیتا ہے اور اس طرح ہفتہ بھر میں سوا تین سو وصول کرتا ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سود ہے جو کہ حرام ہے ازروئے شرع مطلع فرما کر مشکور فرمائیں کہ اس طرح قسط وار تجارت کرنا جائز ہے یا نا جائز ہے اگرناجائز ہے تو کس رو سے ناجائز ہے جواب باصواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں عین کرم ہوگا- الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کے اگر نقد قیمت فورا ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے ۔ نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی طے کر دے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خرید و تو اتنی ہے ۔ یہ جائز نہیں ہے کہ تین سو روپیہ میں فروخت کر دیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ زیادہ لے ایسا کرے گا تو سود ہو جائے گا ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h2>قسط پر سامان بیچنے میں قیمت بڑھا کر بیچنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : زید ریڈیو ٹیلیویژن ٹائپ اور دیگر الکٹرک کے سامان کی تجارت کرتا ہے اور ہمہ اقسام کے سامان قسط وار دیتا ہے اور اس طرح پیسہ لیتا ہے کہ ایک ریڈیو٣٠٠ تین سو روپیہ کا دیتا ہے جس میں اس کو دس روپیہ ملتے ہیں لیکن جب ہفتہ بھر میں پورا پیسہ بھرنے کے لیے گراہک لے جاتا ہے تو تین سو کے اوپر ٢٥ روپیہ اور بڑھا دیتا ہے اور اس طرح ہفتہ بھر میں سوا تین سو وصول کرتا ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سود ہے جو کہ حرام ہے ازروئے شرع مطلع فرما کر مشکور فرمائیں کہ اس طرح قسط وار تجارت کرنا جائز ہے یا نا جائز ہے اگرناجائز ہے تو کس رو سے ناجائز ہے جواب باصواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں عین کرم ہوگا- <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کے اگر نقد قیمت فورا ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے ۔ نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی طے کر دے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خرید و تو اتنی ہے ۔ یہ جائز نہیں ہے کہ تین سو روپیہ میں فروخت کر دیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ زیادہ لے ایسا کرے گا تو سود ہو جائے گا ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...