Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1500 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.6K Views

قسم کا کفارہ | قسم کھا لے تو اب کیا کرے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قسم کا کفارہ | قسم کھا لے تو اب کیا کرے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قسم کا کفارہ | قسم کھا لے تو اب کیا کرے؟

سوال : ایک انسان اللہ کی قسم کھا کر عہد کرے کہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گا مگر وہ پھر وہی کام کر گزرے تو اس صورت میں قسم کا کفارہ کیا ہو گا؟ سائل: محمد وسیم نوری پونہ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب قسم اور قسم کے کفارہ کے بارے میں اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے. لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۔ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۔ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. (المائدة، 5 : 89) اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کر لو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھا لو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤ۔ مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے مطابق غلام تو آج کل موجود نہیں ہیں، لہٰذا قسم توڑنے والا دس مسکینوں/ فقیروں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلائے یا ان کو کپڑے پہنائے۔ اگر کھانا یا کپڑے دستیاب نہ ہوں تو تین دن مسلسل روزے رکھے تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ دس مسکینوں / فقیروں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا۔ دس مسکینوں / فقیروں کو کپڑے دینا۔ غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا (مگر آج کے دور میں یہ سہولت موجود نہیں ہے، لہٰذا پہلی تینوں آپشن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں چوتھی آپشن پر عمل کیا جائے گا. تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>قسم کا کفارہ | قسم کھا لے تو اب کیا کرے؟</h2> سوال : ایک انسان اللہ کی قسم کھا کر عہد کرے کہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گا مگر وہ پھر وہی کام کر گزرے تو اس صورت میں قسم کا کفارہ کیا ہو گا؟ سائل: محمد وسیم نوری پونہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> قسم اور قسم کے کفارہ کے بارے میں اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے. لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۔ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۔ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. (المائدة، 5 : 89) اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کر لو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھا لو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤ۔ مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے مطابق غلام تو آج کل موجود نہیں ہیں، لہٰذا قسم توڑنے والا دس مسکینوں/ فقیروں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلائے یا ان کو کپڑے پہنائے۔ اگر کھانا یا کپڑے دستیاب نہ ہوں تو تین دن مسلسل روزے رکھے تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ دس مسکینوں / فقیروں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا۔ دس مسکینوں / فقیروں کو کپڑے دینا۔ غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا (مگر آج کے دور میں یہ سہولت موجود نہیں ہے، لہٰذا پہلی تینوں آپشن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں چوتھی آپشن پر عمل کیا جائے گا. تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...