Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #71
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.8K Views
قشقہ(پیشانی پر ٹیکا) لگانے کا شرعی حکم
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قشقہ(پیشانی پر ٹیکا) لگانے کا شرعی حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قشقہ(پیشانی پر ٹیکا) لگانے کا شرعی حکم
از : مفتی نظام الدین قادری ۔ جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذيل میں کہ زید عالم دین ہے میدان سیاست میں آنے کے بعد غير مسلموں کے کسی پارٹی میں جاکر ٹیکہ لگوایا ، شریعت کا اس پہ کیا حكم نافذ هوگا . جزاكم الله خيرا وإحسانا المستفتی اكرام المصطفى كاٹھمنڈو نیپال الجواب اللہم ہدایة الحق والصواب: زید نے اگر واقعی سیاسی پارٹی میں جاکر قشقہ (ٹیکا) لگوایا ہے تو اس پر لازم ہے کہ توبہ اور تجدید ایمان کرے اگر بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے مستند حوالوں کی روشنی میں قشقہ لگانے لگوانے پر حکم کفر عائد کیا ہے۔ذیل میں فتاوی رضویہ سے کچھ حوالے پیش ہیں: (١) “ماتھے پر قشقہ (ٹیکا) لگانا خاص شعار کفر ہے ا ور اپنے لئے جو شعار کفرپر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے” (فتاوی رضویہ ج٩ ص٣١٦) (٢) “قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر، اور چہرے میں کس جگہ ، ماتھے پر، جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین ۔ خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:واللفظ لہذا فی الخلاصۃ من تزنر بزنار الیہود والنصاری وان لم یدخل کنیستھم کفر، ومن شد علی وسطہ حبلا وقال ھذازنار کفر، وفی الظہیریۃ وحرم الزوج، وفی المحیط لان ھذاتصریح بما ھو کفر” (فتاوی رضویہ ج٦ص٨۵) (٣) “وہ جنہوں نے برہمن سے قشقہ کھنچوایا وہ جنہوں نے ہنود کے ساتھ وہ جے بولی کافر ہوگئی، ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں” (فتاوی رضویہ ج٦ص۵٠) (۴) “قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتاہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے . اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر بالاجماع کفرہے” (فتاوی رضویہ ج٦ص١۵٠) ١۵١) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی۔ یکم رمضان المبارک ١۴۴٢ھ//١۴/اپریل ٢٠٢١ءAlimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi basti
فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے
Kutubahu & Verified by:
<h2>قشقہ(پیشانی پر ٹیکا) لگانے کا شرعی حکم</h2> <p style="text-align: left;"><em><strong>از : مفتی نظام الدین قادری ۔ جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></em></p> کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذيل میں کہ زید عالم دین ہے میدان سیاست میں آنے کے بعد غير مسلموں کے کسی پارٹی میں جاکر ٹیکہ لگوایا ، شریعت کا اس پہ کیا حكم نافذ هوگا . جزاكم الله خيرا وإحسانا المستفتی اكرام المصطفى كاٹھمنڈو نیپال الجواب اللہم ہدایة الحق والصواب: زید نے اگر واقعی سیاسی پارٹی میں جاکر قشقہ (ٹیکا) لگوایا ہے تو اس پر لازم ہے کہ توبہ اور تجدید ایمان کرے اگر بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے مستند حوالوں کی روشنی میں قشقہ لگانے لگوانے پر حکم کفر عائد کیا ہے۔ذیل میں فتاوی رضویہ سے کچھ حوالے پیش ہیں: (١) "ماتھے پر قشقہ (ٹیکا) لگانا خاص شعار کفر ہے ا ور اپنے لئے جو شعار کفرپر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے" (فتاوی رضویہ ج٩ ص٣١٦) (٢) "قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر، اور چہرے میں کس جگہ ، ماتھے پر، جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین ۔ خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے:واللفظ لہذا فی الخلاصۃ من تزنر بزنار الیہود والنصاری وان لم یدخل کنیستھم کفر، ومن شد علی وسطہ حبلا وقال ھذازنار کفر، وفی الظہیریۃ وحرم الزوج، وفی المحیط لان ھذاتصریح بما ھو کفر" (فتاوی رضویہ ج٦ص٨۵) (٣) "وہ جنہوں نے برہمن سے قشقہ کھنچوایا وہ جنہوں نے ہنود کے ساتھ وہ جے بولی کافر ہوگئی، ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں" (فتاوی رضویہ ج٦ص۵٠) (۴) "قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتاہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے . اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر بالاجماع کفرہے" (فتاوی رضویہ ج٦ص١۵٠) ١۵١) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی۔ یکم رمضان المبارک ١۴۴٢ھ//١۴/اپریل ٢٠٢١ء <p style="text-align: left;"> <strong>Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi basti </strong></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=259" rel="bookmark">فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...