01
The questionSawaal
اصل سوالقومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
02
The responseAl-Jawab
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
سوال :انڈیا گورنمنٹ نے بینک کو قومیا لیا ہے۔ حفاظت کے لیے بکر نے اپنا روپیہ جمع کردیا ۔پانچ سال کے بعد جب بکر نے جائیداد خریدنے کے واسطے اپنا روپیہ نکالا تو اصل رقم کے ساتھ نفع کا بھی روپیہ ملا ۔ یہ روپیہ بکر کے لئے جائز ہے یا ناجائز ؟زید کا کہنا ہے کہ کہ قومیائے ہوئے بینک سے اصل رقم کے ساتھ جو زائد روپیہ ملا ہے اور جائز نہیں ہے کیونکہ بینک خالص ہندو مہاجن کے نہیں ہیں۔ اس کے مالک ہندو، مسلم,سکھ، عیسائی سبھی ہیں۔ یہ رقم سود ہوجاتی ہے بکر اسے کیا کرے ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ قومیائے ہوئے بینک کے مالک مسلمان بھی ہیں یہ صرف کہنے کے لئے ہے حقیقت میں اس کے مالک صرف یہاں کے کافر ہیں جو حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان شرعاً سود نہیں کما فی الحدیث۔ لہذا ایسے بینک کا نفع مسلمان کیلئے جائز ہے۔ بکر اسے لے کر کسی بھی جائز کام میں خرچ کر سکتا ہے ۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.