Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1281 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.8K Views

لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟

سوال :اقبال احمد بن محمد رضا مرحوم ساکن گائے گھاٹ بازار ضلع بستی نے میرے اور چند نمازی مسلمانوں کے سامنے اوجھا گنج کی جامع مسجد کے ممبر پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے یا تو یہ کہا ہے کہ لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں اور یا تو یہ کہا ہے کہ میں طلاق دے سکتا ہوں اور یا تو یہ کہا کہ میں طلاق دے دوں گا۔ پس اگر میرا یہ بیان جھوٹا ہو تو غازی میاں مجھے کوئی اور اندھا کر دیں۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اقبال احمد نے جب اس طرح حلفیہ بیان دیا تو اسے صحیح مان لیا گیا اور مذکورہ بالا تین جملوں میں سے کسی جملہ سے بھی اس کی بیوی پر طلاق نہیں پڑی اس لیے وقوع طلاق کا حکم نہیں کیا گیا وہ بدستور سابق اقبال احمد کی بیوی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ كتبه: مفتی جلال الدين احمد الامجدي

Kutubahu & Verified by:

<h3>لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں یا میں طلاق دے سکتا ہوں تو کیا حکم ہے ؟</h3> سوال :اقبال احمد بن محمد رضا مرحوم ساکن گائے گھاٹ بازار ضلع بستی نے میرے اور چند نمازی مسلمانوں کے سامنے اوجھا گنج کی جامع مسجد کے ممبر پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے یا تو یہ کہا ہے کہ لاؤ کاغذ میں میں ابھی طلاق دیتا ہوں اور یا تو یہ کہا ہے کہ میں طلاق دے سکتا ہوں اور یا تو یہ کہا کہ میں طلاق دے دوں گا۔ پس اگر میرا یہ بیان جھوٹا ہو تو غازی میاں مجھے کوئی اور اندھا کر دیں۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اقبال احمد نے جب اس طرح حلفیہ بیان دیا تو اسے صحیح مان لیا گیا اور مذکورہ بالا تین جملوں میں سے کسی جملہ سے بھی اس کی بیوی پر طلاق نہیں پڑی اس لیے وقوع <a href="https://masailworld.com/shauhar-ne-talaq-ki-jhooti-khabar-di-to-kya-hukm-hai/"><strong>طلاق</strong></a> کا حکم نہیں کیا گیا وہ بدستور سابق اقبال احمد کی بیوی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>كتبه: مفتی جلال الدين احمد الامجدي</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...