Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1977 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13K Views

لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟

سوال : علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ پیش خدمت ہے کہ اگر کوئی چیز یعنی لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دی جائے تو کیا اس کا لگانا شرعا جائز ہے کہ نہیں جواب سے آگاہ کریں ؟؟ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب گورنمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ بجلی یا کوئی دیگر سامان کا استعمال مسجد و مدرسہ وغیرہ میں کرسکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں  ۔ اس کے متعلق (” فتاویٰ مرکز تربیت افتاء” ج: (٢) ص: (١٩٥) پر ہے کہ ) ” میونسپلٹی فنڈ, یا ایم ایل اے, یا ایم پی, یادیگر اور کسی بھی سرکاری فنڈ کی رقم سے مسجد بنانا, یا مسجد کا وضو خانہ, مسجد کی چہار دیواری ( باؤنڈری وال) یا مسجد کا بیت الخلاء وغیرہ بنوانا درست ہے – کیونکہ گورنمنٹ کے خزانہ سے جاری رقم ہمیں میونسپلٹی کے ذریعے ملے یا ایم پی, ایم ایل اے کے ذریعہ اسے مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے لینا اور مسجد میں صرف کرنا جائز و درست ہے – اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ‘ خزانہ والئ ملک کی ذاتی ملک نہیں ہوتا اس کے لینے میں حرج نہیں – جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو ‘ (“فتاوی رضویہ” ج :(٦) ص: (۴۶۰) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ:محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟</h2> <span style="font-size: 18pt;">سوال : علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ پیش خدمت ہے کہ اگر کوئی چیز یعنی لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دی جائے تو کیا اس کا لگانا شرعا جائز ہے کہ نہیں جواب سے آگاہ کریں ؟؟</span> <span style="color: #ff0000;"><strong><span style="font-size: 18pt;">الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</span></strong></span> <span style="font-size: 18pt;">گورنمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ بجلی یا کوئی دیگر سامان کا استعمال مسجد و مدرسہ وغیرہ میں کرسکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں  ۔</span> <span style="font-size: 18pt;">اس کے متعلق (" فتاویٰ مرکز تربیت افتاء" ج: (٢) ص: (١٩٥) پر ہے کہ )</span> <span style="font-size: 18pt;">" میونسپلٹی فنڈ, یا ایم ایل اے, یا ایم پی, یادیگر اور کسی بھی سرکاری فنڈ کی رقم سے مسجد بنانا, یا مسجد کا وضو خانہ, مسجد کی چہار دیواری ( باؤنڈری وال) یا مسجد کا بیت الخلاء وغیرہ بنوانا درست ہے -</span> <span style="font-size: 18pt;">کیونکہ گورنمنٹ کے خزانہ سے جاری رقم ہمیں میونسپلٹی کے ذریعے ملے یا ایم پی, ایم ایل اے کے ذریعہ اسے مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے لینا اور مسجد میں صرف کرنا جائز و درست ہے -</span> <span style="font-size: 18pt;">اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :</span> <span style="font-size: 18pt;">' خزانہ والئ ملک کی ذاتی ملک نہیں ہوتا اس کے لینے میں حرج نہیں - جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو '</span> <span style="font-size: 18pt;">("فتاوی رضویہ" ج :(٦) ص: (۴۶۰)</span> <span style="font-size: 18pt;">وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم</span> <strong><span style="font-size: 18pt;">کتبہ:محمدرضا مرکزی</span></strong> <strong><span style="font-size: 18pt;">خادم التدریس والافتا</span></strong> <strong><span style="font-size: 18pt;">الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</span></strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...