Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #313 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.8K Views

لزوم کفر اور التزام کفر دونوں میں کیا فرق ہے مثال کے ساتھ واضح کریں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

لزوم کفر اور التزام کفر دونوں میں کیا فرق ہے مثال کے ساتھ واضح کریں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

لزوم کفر اور التزام کفر دونوں میں کیا فرق ہے مثال کے ساتھ واضح کریں؟

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب :

لزوم کفر یہ ہے : کہ قائل نے جو بات کہی وہ عین کفر نہیں مگر کفر کی جانب لے جانے والی ہو ۔اور کفر التزامی یہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی شئی کا صراحتًاخلاف کرے۔فتاوی رضویہ میں ہے :

” لزومی یہ ہے کہ جو بات اس نے کہی وہ عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہو ، کفر التزامی یہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی شئی کا تصریحًا خلاف کرے”اھ

(الفتاوی الرضویہ: ج: 6، ص: 266، مطبع دار الاشاعت بریلی شریف)

کفر لزومی اور کفر التزامی میں دو اعتبار سے فرق ہے :

(١)کفر لزومی کا قائل کافر نہیں ہوتا بلکہ بدعتی، بد مذہب اور ضال وگمراہ ہوتا ہے ۔ اور کفر التزامی کا قائل قطعاً اجماعا کافر ہوتا ہے ۔

(٢) کفر لزومی میں قائل کا قول عین کفر نہیں ہوتا ہے بلکہ اگر مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے چلیے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے گا۔ جبکہ کفر التزامی میں قائل کا قول عین کفر ہوتا ہے۔ کفر لزومی کی مثال فتاوی رضوری میں ہے :

” روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفئہ رسول صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنھم اجمعین سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی طرف مودّی اور وہ قطعا کفر مگر انھوں نے صراحتًا اس، لازم کا اقرار نہ کیا تھا، بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام وغیرھم چند اکابر کرام علی مولاھم وعلیھم الصلاة والسلام کو زبانی دعؤوں سے اپنا پیشوا بناتے اور خلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں ” اھ

(الفتاوی الرضویہ: ج: 6 ، ص: 266 )

کفر التزامی کی مثال فتاویٰ رضویہ میں ہے :

” طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیاطین وآسمان ونار و وجنان ومعجزات انبیا علیھم افضل الصلاة والسلام سے ان معانی کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا” اھ

(الفتاوی الرضویہ : ج: 6 ، ص: 266) واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ : مفتی عبد القادر المصباحی الجامعی

مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو، پی، انڈیا ٤ ربیع الاوّل ١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">لزوم کفر اور التزام کفر دونوں میں کیا فرق ہے مثال کے ساتھ واضح کریں؟</h2> <p style="direction: rtl;">بسم الله الرحمن الرحیم</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوھاب :</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">لزوم کفر یہ ہے : کہ قائل نے جو بات کہی وہ عین کفر نہیں مگر کفر کی جانب لے جانے والی ہو ۔اور کفر التزامی یہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی شئی کا صراحتًاخلاف کرے۔فتاوی رضویہ میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">" لزومی یہ ہے کہ جو بات اس نے کہی وہ عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہو ، کفر التزامی یہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی شئی کا تصریحًا خلاف کرے"اھ</p> <p style="direction: rtl;">(الفتاوی الرضویہ: ج: 6، ص: 266، مطبع دار الاشاعت بریلی شریف)</p> <p style="direction: rtl;">کفر لزومی اور کفر التزامی میں دو اعتبار سے فرق ہے :</p> <p style="direction: rtl;">(١)کفر لزومی کا قائل کافر نہیں ہوتا بلکہ بدعتی، بد مذہب اور ضال وگمراہ ہوتا ہے ۔ اور کفر التزامی کا قائل قطعاً اجماعا کافر ہوتا ہے ۔</p> <p style="direction: rtl;">(٢) کفر لزومی میں قائل کا قول عین کفر نہیں ہوتا ہے بلکہ اگر مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے چلیے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے گا۔ جبکہ کفر التزامی میں قائل کا قول عین کفر ہوتا ہے۔ کفر لزومی کی مثال فتاوی رضوری میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">" روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفئہ رسول صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنھم اجمعین سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی طرف مودّی اور وہ قطعا کفر مگر انھوں نے صراحتًا اس، لازم کا اقرار نہ کیا تھا، بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام وغیرھم چند اکابر کرام علی مولاھم وعلیھم الصلاة والسلام کو زبانی دعؤوں سے اپنا پیشوا بناتے اور خلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں " اھ</p> <p style="direction: rtl;">(الفتاوی الرضویہ: ج: 6 ، ص: 266 )</p> <p style="direction: rtl;">کفر التزامی کی مثال فتاویٰ رضویہ میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">" طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیاطین وآسمان ونار و وجنان ومعجزات انبیا علیھم افضل الصلاة والسلام سے ان معانی کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا" اھ</p> <p style="direction: rtl;">(الفتاوی الرضویہ : ج: 6 ، ص: 266) واللہ تعالٰی اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی عبد القادر المصباحی الجامعی</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو، پی، انڈیا ٤ ربیع الاوّل ١٤٤٣ھ</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...