Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1524
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.4K Views
لفظ معراج کو باب افعال کا اسم آلہ کہنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
لفظ معراج کو باب افعال کا اسم آلہ کہنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
لفظ معراج کو باب افعال کا اسم آلہ کہنا کیسا ہے؟
مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ لفظ معراج کا کیا معنی ہے اور یہ کس باب سے آتا ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ باب افعال کا اسم آلہ ہے تو ایسا کہنا کیسا ہے؟ المستفتی:حافظ وقاری محمد اعجاز رضا مدرس دار العلوم نظامیہ نیروجال وامام وخطیب جامع مسجد عیدگاہ فتحپور راجوری جموں وکشمیر الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب لفظ “معراج” کا معنی ہے سیڑھی، یہ ثلاثی مجرد کے باب ضرب یضرب اور نصرینصر دونوں سے آتا ہے، مثلا عرج يعرج عروجا ،اسے باب افعال کا اسم آلہ قرار دینا ہرگز درست نہیں، کیونکہ باب افعال اور اسکے علاوہ جتنے بھی غیر ثلاثی مجرد کے ابواب ہیں ان سے مذکورہ وزن پر اسم آلہ نہیں آتا اور نہ ہی اسم تفضیل آتا کیونکہ اسم آلہ اور اسم تفضیل یہ صرف ابواب ثلاثی مجرد سے آتے ہیں، ابواب غیر ثلاثی مجرد سے نہیں آتے جبکہ باب افعال بھی غیر ثلاثی مجرد ہے، لہذا لفظ” معراج” باب افعال کا اسم آلہ نہیں ہوسکتا- حضرت اقدس علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں: “وآلہ واسم تفضیل ازیں ابواب نیاید”(علم الصیغہ ص ۲۰/باب دوم در بیان ابواب/فصل دوم-در ابواب ثلاثی مزید فیہ مطلق/ناشر:مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور اعظم گڑھ یوپی(انڈیا) اور علامہ نذیر احمد سعیدی صاحب شرح علم الصیغہ میں لکھتے ہیں: “غیر ثلاثی مجرد سے اسم آلہ واسم تفضیل بتمامہ نہیں آتے”( تحفہ سعیدیہ شرح علم الصیغہ ص ۱۰۳/ ) اور استاذی الکریم مفتی محمد نظام الدین قادری زید مجدہ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی تحریر فرماتے ہیں: “غیر ثلاثی مجرد سے اسم آلہ کے لیے کوئی صیغہ نہیں ہے،البتہ اگر اسم آلہ کا معنی ادا کرنا مقصود ہو تو مصدر سے پہلے “مابه” لگاکر اسم آلہ کا معنی حاصل کرلیا جاتا ہے،جیسے “مابه الامتياز”(امتیاز کا آلہ)”( قواعد الصرف ح ۱ ص ۲۱/باہتمام:مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور اعظم گڑھ یوپی) دوسری بات یہ کہ لفظ معراج باب ثلاثی مجرد عرج یعرج(ن-ض) سے اسم آلہ ہے جسکا معنی ہے چڑھنے کا آلہ یعنی سیڑھی اسکو باب افعال سے قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ اسے باب افعال سے ماننے میں سیڑھی معنی آتا ہی نہیں بلکہ باب افعال سے أعرج يعرج کا معنی لنگڑا بنانا آتا ہے اور یہ معنی یہاں درست نہیں- عربی زبان کی مشہور لغت لسان العرب میں ہے “وعرج في الدرجة والسلم يعرج عروجا أي ارتقى . وعرج في الشئ وعلیه يعرج يعرج عروجا أيضا رقي-(لسان العرب-ابن منظور-ج ۲-ص ۳۲۱/ المكتبة الشيعية) اور مصباح اللغات میں ہے “عرج(ض ن) عروجا ومعرجا فى السلم- سیڑھی پر چڑھنا—- علی الشئ وفیه: چڑھنا-عرج به: چڑھایا جانا- أعرج-آفتاب کے غائب ہونے کے وقت داخل ہونا-أعرجه اللہ: لنگڑا کردینا-( ص ۵۴۱/مکتبہ برہان اردو بازار جامع مسجد دہلی) نیز اسی میں ہے “المعرج والمعرج والمعراج-سیڑھی-چڑھنے کی جگہ-ج- معارج ومعاریج”( حوالہ سابق ص ۵۴۲) اور القاموس الجدید میں ہے”عرج(ن ض) عروجا: چڑھنا،بلند ہونا- اعراج:لنگڑا بنانا-(ص ۴۵۹) مذکورہ تفصیل سے روز روشن کی طرح ظاہر ہوگیا کہ لفظ معراج ثلاثی مجرد کے باب ضرب یضرب اور نصر ینصر دونوں سے اسم آلہ ہے اسے باب افعال کا اسم آلہ قرار دینا سراسر غلط ہے، اس سے قائل کی علم صرف اور لغت عرب سے لاعلمی کا پتہ چلتا ہے قائل کو چاہیے کہ تحقیق کے بعد ہی مسئلہ بتائے بغیر تحقیق کے مسئلہ بتانا حرام ہے، آئندہ ایسی حرکتوں(بغیر تحقیق کے مسئلہ بتانے سے) سے باز آنا چاہیے- واللہ سبحانہ وتعالی أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۲۷/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۱/مارچ ۲۰۲۲ء الجواب صحیح : کمال احمد علیمی نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
Kutubahu & Verified by:
<h2>لفظ معراج کو باب افعال کا اسم آلہ کہنا کیسا ہے؟</h2> مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ لفظ معراج کا کیا معنی ہے اور یہ کس باب سے آتا ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ باب افعال کا اسم آلہ ہے تو ایسا کہنا کیسا ہے؟ المستفتی:حافظ وقاری محمد اعجاز رضا مدرس دار العلوم نظامیہ نیروجال وامام وخطیب جامع مسجد عیدگاہ فتحپور راجوری جموں وکشمیر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب</strong></span> لفظ "معراج" کا معنی ہے سیڑھی، یہ ثلاثی مجرد کے باب ضرب یضرب اور نصرینصر دونوں سے آتا ہے، مثلا عرج يعرج عروجا ،اسے باب افعال کا اسم آلہ قرار دینا ہرگز درست نہیں، کیونکہ باب افعال اور اسکے علاوہ جتنے بھی غیر ثلاثی مجرد کے ابواب ہیں ان سے مذکورہ وزن پر اسم آلہ نہیں آتا اور نہ ہی اسم تفضیل آتا کیونکہ اسم آلہ اور اسم تفضیل یہ صرف ابواب ثلاثی مجرد سے آتے ہیں، ابواب غیر ثلاثی مجرد سے نہیں آتے جبکہ باب افعال بھی غیر ثلاثی مجرد ہے، لہذا لفظ" معراج" باب افعال کا اسم آلہ نہیں ہوسکتا- حضرت اقدس علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں: "وآلہ واسم تفضیل ازیں ابواب نیاید"(علم الصیغہ ص ۲۰/باب دوم در بیان ابواب/فصل دوم-در ابواب ثلاثی مزید فیہ مطلق/ناشر:مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور اعظم گڑھ یوپی(انڈیا) اور علامہ نذیر احمد سعیدی صاحب شرح علم الصیغہ میں لکھتے ہیں: "غیر ثلاثی مجرد سے اسم آلہ واسم تفضیل بتمامہ نہیں آتے"( تحفہ سعیدیہ شرح علم الصیغہ ص ۱۰۳/ ) اور استاذی الکریم مفتی محمد نظام الدین قادری زید مجدہ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی تحریر فرماتے ہیں: "غیر ثلاثی مجرد سے اسم آلہ کے لیے کوئی صیغہ نہیں ہے،البتہ اگر اسم آلہ کا معنی ادا کرنا مقصود ہو تو مصدر سے پہلے "مابه" لگاکر اسم آلہ کا معنی حاصل کرلیا جاتا ہے،جیسے "مابه الامتياز"(امتیاز کا آلہ)"( قواعد الصرف ح ۱ ص ۲۱/باہتمام:مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور اعظم گڑھ یوپی) دوسری بات یہ کہ لفظ معراج باب ثلاثی مجرد عرج یعرج(ن-ض) سے اسم آلہ ہے جسکا معنی ہے چڑھنے کا آلہ یعنی سیڑھی اسکو باب افعال سے قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ اسے باب افعال سے ماننے میں سیڑھی معنی آتا ہی نہیں بلکہ باب افعال سے أعرج يعرج کا معنی لنگڑا بنانا آتا ہے اور یہ معنی یہاں درست نہیں- عربی زبان کی مشہور لغت لسان العرب میں ہے "وعرج في الدرجة والسلم يعرج عروجا أي ارتقى . وعرج في الشئ وعلیه يعرج يعرج عروجا أيضا رقي-(لسان العرب-ابن منظور-ج ۲-ص ۳۲۱/ المكتبة الشيعية) اور مصباح اللغات میں ہے "عرج(ض ن) عروجا ومعرجا فى السلم- سیڑھی پر چڑھنا---- علی الشئ وفیه: چڑھنا-عرج به: چڑھایا جانا- أعرج-آفتاب کے غائب ہونے کے وقت داخل ہونا-أعرجه اللہ: لنگڑا کردینا-( ص ۵۴۱/مکتبہ برہان اردو بازار جامع مسجد دہلی) نیز اسی میں ہے "المعرج والمعرج والمعراج-سیڑھی-چڑھنے کی جگہ-ج- معارج ومعاریج"( حوالہ سابق ص ۵۴۲) اور القاموس الجدید میں ہے"عرج(ن ض) عروجا: چڑھنا،بلند ہونا- اعراج:لنگڑا بنانا-(ص ۴۵۹) مذکورہ تفصیل سے روز روشن کی طرح ظاہر ہوگیا کہ لفظ معراج ثلاثی مجرد کے باب ضرب یضرب اور نصر ینصر دونوں سے اسم آلہ ہے اسے باب افعال کا اسم آلہ قرار دینا سراسر غلط ہے، اس سے قائل کی علم صرف اور لغت عرب سے لاعلمی کا پتہ چلتا ہے قائل کو چاہیے کہ تحقیق کے بعد ہی مسئلہ بتائے بغیر تحقیق کے مسئلہ بتانا حرام ہے، آئندہ ایسی حرکتوں(بغیر تحقیق کے مسئلہ بتانے سے) سے باز آنا چاہیے- واللہ سبحانہ وتعالی أعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۷/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ مطابق ۱/مارچ ۲۰۲۲ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : کمال احمد علیمی نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...