Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1273
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.9K Views
لوگوں کے انتظار میں مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
لوگوں کے انتظار میں مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
لوگوں کے انتظار میں مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھنا کیسا ہے؟
سوال : مغرب کی نماز میں دوسرے نمازیوں کے وضو کے انتظار میں دیر کرنا صحیح و درست ہے یا نہیں؟عشاء کے پہلے سونے سے عشاء کا وقت ختم ہوجاتا ہے یا نہیں؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــ جماعت کے آدمی موجود ہونے پر وقت مستحب سے زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ بعض دوسرے مقتدیوں کو گراں گزرے تو انتظار منع ہے اور مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے . پھر جتنی تاخیر ہوگی کراہت بڑھتی جائے گی. لہذا ایسی صورت میں جماعت کے آدمی موجود ہونے پر دوسرے بعض نمازیوں کے لیے انتظار کرنا اور جماعت کو مؤخر کرنا جائز نہیں حتی کہ اگر خود جماعت تاخیر سے ہونے والی ہو تو تنہا نماز پڑھ لے اور تاخیر کی کراہت سے بچے. ھکذا فی الفتاویٰ. (٢) مغرب کا وقت ختم ہو جانے کے بعد صبح صادق کے پہلے تک عشاء کا وقت ہے لہذا اس درمیان میں جب بھی نماز پڑھے خواہ سو کر یا بغیر سوئے نماز ادا ہو جائے گی. ہاں نماز عشاء پڑھنے سے پہلے سونا مکروہ ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے” کان یکرہ النوم قبلھا و الحدیث بعدھا ” (متفق علیہ، مشکوٰۃ شریف) سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونا اور عشاء پڑھنے کے بعد بات چیت کرنا ناپسند فرماتے تھے. پھر دوسری حدیث حضرت امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے متن سے مروی ہے آپ نے فرمایا ” فمن نام فلا نامے عینہ فمن نام فلا نامت عینہ فمن نام فلا نامت عینہ (رواہ مالک عن عمر بن الخطاب مشکوۃ شریف) یعنی جو شخص عشاء پڑھنے سے پہلے سوئے تو اس کی آنکھیں نہ سوئیں جو سو جائے تو اس کی آنکھیں نہ سوئیں جو سو جائے تو اس کی آنکھیں نہ سوئیں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے انتہائی غضب میں یہ دعا فرمائی کہ ایسے شخص کو آرام و سکون نصیب نہ ہو. بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عشاء پڑھنے سے پہلے سونا تنگی رزق اور افلاس پیدا کرتا ہے. لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سو کر دینی اور دنیاوی نعمتوں سے محروم نہ ہوں. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نعیم الدین عفی عنہ ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧٨
Kutubahu & Verified by:
<h2>لوگوں کے انتظار میں مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھنا کیسا ہے؟</h2> سوال : مغرب کی نماز میں دوسرے نمازیوں کے وضو کے انتظار میں دیر کرنا صحیح و درست ہے یا نہیں؟ <h3>عشاء کے پہلے سونے سے عشاء کا وقت ختم ہوجاتا ہے یا نہیں؟</h3> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جماعت کے آدمی موجود ہونے پر وقت مستحب سے زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ بعض دوسرے مقتدیوں کو گراں گزرے تو انتظار منع ہے اور مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے . پھر جتنی تاخیر ہوگی کراہت بڑھتی جائے گی. لہذا ایسی صورت میں جماعت کے آدمی موجود ہونے پر دوسرے بعض نمازیوں کے لیے انتظار کرنا اور جماعت کو مؤخر کرنا جائز نہیں حتی کہ اگر خود جماعت تاخیر سے ہونے والی ہو تو تنہا نماز پڑھ لے اور تاخیر کی کراہت سے بچے. ھکذا فی الفتاویٰ. <span style="color: #ff0000;"><strong>(٢)</strong></span> مغرب کا وقت ختم ہو جانے کے بعد صبح صادق کے پہلے تک عشاء کا وقت ہے لہذا اس درمیان میں جب بھی نماز پڑھے خواہ سو کر یا بغیر سوئے نماز ادا ہو جائے گی. ہاں نماز عشاء پڑھنے سے پہلے سونا مکروہ ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>'' کان یکرہ النوم قبلھا و الحدیث بعدھا ''</strong></span> (متفق علیہ، مشکوٰۃ شریف) سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونا اور عشاء پڑھنے کے بعد بات چیت کرنا ناپسند فرماتے تھے. پھر دوسری حدیث حضرت امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے متن سے مروی ہے آپ نے فرمایا '' فمن نام فلا نامے عینہ فمن نام فلا نامت عینہ فمن نام فلا نامت عینہ (رواہ مالک عن عمر بن الخطاب مشکوۃ شریف) یعنی جو شخص عشاء پڑھنے سے پہلے سوئے تو اس کی آنکھیں نہ سوئیں جو سو جائے تو اس کی آنکھیں نہ سوئیں جو سو جائے تو اس کی آنکھیں نہ سوئیں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے انتہائی غضب میں یہ دعا فرمائی کہ ایسے شخص کو آرام و سکون نصیب نہ ہو. بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عشاء پڑھنے سے پہلے سونا تنگی رزق اور افلاس پیدا کرتا ہے. لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سو کر دینی اور دنیاوی نعمتوں سے محروم نہ ہوں. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد نعیم الدین عفی عنہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧٨</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...