Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1854 Verified Hanafi Fiqh 6.4K Views

لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی استاذ مکرم حضرت مفتی صاحب قبلہ مندرجہ ذیل مسئلے کا تحریری جواب عنایت فرمادیں کہ عورتوں کو لپسٹک لگانا کیسا ہے؟ المستفتیہ حسن آرا بنارس۔ الجواب بعون الملک الوھاب لپسٹک میں حرام و ناپاک اشياء ملی ہوں تو اس کا لگانا حرام ہے۔ ورنہ جائز کہ وہ سامان زینت ہے اور عورتوں کے لئے زینت روا ہے ہاں بچنا افضل ہے۔ اور اس کا جرم پانی کو روکتا ہے تو اس کے ہوتے ہوئے وضو و غسل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا وضو و غسل سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کرنا لازم ہے۔ فتاوی یورپ میں ہے: “لپسٹک اور ناخن پالش(Lip stick $ Nagellak) جن میں حرام اور ناپاک اشیاء کی آمیزش ہو ان کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے حرام ہے۔ اور ان کے لگے رہنے کی صورت میں نہ وضو صحیح ہے نہ غسل اور نہ ہی نماز، ہاں اگر لپسٹک اور نیل پالش کے ساتھ اس کا فارمولہ بھی موجود ہو جس سے ظن غالب (ملحق بہ یقین) ہو کہ اس میں کوئ ناپاک اور حرام اشياء کی ملاوٹ نہیں ہے تو اس کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ سامان زینت ہے اور عورتوں کے لئے زینت روا ہے ” اھ (ص ١٠٧، کتاب الطھارۃ ، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف

Kutubahu & Verified by:

<h3>لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی استاذ مکرم حضرت مفتی صاحب قبلہ مندرجہ ذیل مسئلے کا تحریری جواب عنایت فرمادیں کہ عورتوں کو لپسٹک لگانا کیسا ہے؟ المستفتیہ حسن آرا بنارس۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> لپسٹک میں حرام و ناپاک اشياء ملی ہوں تو اس کا لگانا حرام ہے۔ ورنہ جائز کہ وہ سامان زینت ہے اور عورتوں کے لئے زینت روا ہے ہاں بچنا افضل ہے۔ اور اس کا جرم پانی کو روکتا ہے تو اس کے ہوتے ہوئے وضو و غسل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا وضو و غسل سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کرنا لازم ہے۔ فتاوی یورپ میں ہے: "لپسٹک اور ناخن پالش(Lip stick $ Nagellak) جن میں حرام اور ناپاک اشیاء کی آمیزش ہو ان کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے حرام ہے۔ اور ان کے لگے رہنے کی صورت میں نہ وضو صحیح ہے نہ غسل اور نہ ہی نماز، ہاں اگر لپسٹک اور نیل پالش کے ساتھ اس کا فارمولہ بھی موجود ہو جس سے ظن غالب (ملحق بہ یقین) ہو کہ اس میں کوئ ناپاک اور حرام اشياء کی ملاوٹ نہیں ہے تو اس کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ سامان زینت ہے اور عورتوں کے لئے زینت روا ہے " اھ (ص ١٠٧، کتاب الطھارۃ ، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ <span style="color: #000000;"><strong>کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #000000;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: