01
The questionSawaal
اصل سواللڑکی نے مہر 135 بتایا اور باپ نے 35 پر کردیا تو کیا حکم ہے؟
02
The responseAl-Jawab
لڑکی نے مہر 135 بتایا اور باپ نے 35 پر کردیا تو کیا حکم ہے؟
سوال : زید اور خالد نے اپنے لڑکے اور لڑکی کی شادی طے کی. جب لڑکی سے اجازت لینے گئے تو لڑکی نے اپنا دین مہر ایک سو پینتیس روپے دس آنہ بتایا. جب لڑکے سے ایجاب و قبول کرایا گیا تو لڑکے نے انکار کر دیا. اس کے بعد زید اور خالد نے آپس میں طے کرکے مبلغ 35 روپے ساڑھے ١٠ آنہ دین مہر پر نکاح پڑھوایا لڑکی کو اس کی کوئی خبر نہیں وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ ایک سو پینتیس روپے دس آنہ پر ہی نکاح پڑھایا گیا ہے ایسی صورت میں جب کہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہیں تو نکاح ہوا کہ نہیں؟ شرع کے مطابق جیسا حکم ہو صادر فرمایا جائے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفسرہ میں نکاح فضولی ہوا یعنی جس وقت لڑکی کو کو 35 روپے دس آنہ مہر پر نکاح ہونے کا علم ہوا اس وقت اگر لڑکی نے اس نکاح کو نامنظور کر دیا تو نکاح باطل ہوگیا ۔ اور اگر منظور کرلیا تو ہو گیا. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب کتبـــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 682
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.