Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1792
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.2K Views
مالکِ نصاب لوگوں کا قربانی کی بجائے مدرسہ قائم کرنے کا حکم
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مالکِ نصاب لوگوں کا قربانی کی بجائے مدرسہ قائم کرنے کا حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مالکِ نصاب لوگوں کا قربانی کی بجائے مدرسہ قائم کرنے کا حکم
مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرع مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید اور بکر اور گاؤں کے کُچھ نوجوان لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جن پیسو سے ہم قربانی کرتے ہیں انہی پیسو سے ہم ایک اسکول جِس میں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جائے اور ایک لڑکیوں کے لئے مدرسہ اور ایک اچھا اسکول جِس میں لڑکیوں کو پردے کے ساتھ تعلیم دی جاسکے بنوائیں کیا شرعا ایسا کرنا درست ہے۔ سائل: محمد رضا مدھیہ پردیش۔ الجواب-بعون الملک الوھاب دینی تعلیم کے لیے مدرسہ قائم کرنا یوں ہی شرعی پردہ کے التزام کے ساتھ بچیوں کی تعلیم کا انتظام کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ یوں ہی اچھی نیت سے ایسی دنیاوی تعلیم کا بند و بست کرنا جو شرع کے مخالف نہ ہو نیک کام ہے۔ لیکن جن پر قربانی واجب ہے ان کو قربانی کے دنوں میں قربانی ہی کرنا ضروری ہے، قربانی کی بجائے دوسرے نیک کام کرنے سے ان کے ذمہ سے قربانی ساقط نہ ہوگی اور قربانی نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔ جس طرح کسی پر حج فرض ہوجائے تو اس کو حج کرنا ہی ضروری ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ حج کرنے کی بجائے حج کے سلسلے میں ہونے والے اخراجات کو دوسرے دینی کام میں صرف کرکے حج فرض سے بری الذمہ ہوجائے ۔ ہاں ! جن پر قربانی واجب نہ ہو یا جو واجب قربانی کے بعد مزید نفلی قربانی کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے شرع کی طرف سے اجازت ہے کہ وہ نفلی قربانی کی بجائے دوسرے مفید نیک کاموں میں اپنا پیسہ صرف کرسکتے ہیں۔ فتاوی ھندیۃ میں ہے: “وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَقُومُ غَيْرُهَا مَقَامَهَا فِي الْوَقْتِ، حَتَّى لَوْ تَصَدَّقَ بِعَيْنِ الشَّاةِ أَوْ قِيمَتِهَا فِي الْوَقْتِ لَا يُجْزِئُهُ عَنْ الْأُضْحِيَّةِ”۔ اھ (ج٥, ص٣٦٣, کتاب الاضحیۃ, الباب الاول فی تفسیرھا ورکنھا وصفتھا الخ , مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مثلاً بجائے قربانی اس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے ۔” اھ (بہار شریعت , حصہ ١٥, ص٣٣٥, مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ جل جلالہ ورسولہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>مالکِ نصاب لوگوں کا قربانی کی بجائے مدرسہ قائم کرنے کا حکم</h2> مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرع مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید اور بکر اور گاؤں کے کُچھ نوجوان لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جن پیسو سے ہم قربانی کرتے ہیں انہی پیسو سے ہم ایک اسکول جِس میں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جائے اور ایک لڑکیوں کے لئے مدرسہ اور ایک اچھا اسکول جِس میں لڑکیوں کو پردے کے ساتھ تعلیم دی جاسکے بنوائیں کیا شرعا ایسا کرنا درست ہے۔ سائل: محمد رضا مدھیہ پردیش۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب</strong></span> دینی تعلیم کے لیے مدرسہ قائم کرنا یوں ہی شرعی پردہ کے التزام کے ساتھ بچیوں کی تعلیم کا انتظام کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ یوں ہی اچھی نیت سے ایسی دنیاوی تعلیم کا بند و بست کرنا جو شرع کے مخالف نہ ہو نیک کام ہے۔ لیکن جن پر قربانی واجب ہے ان کو قربانی کے دنوں میں قربانی ہی کرنا ضروری ہے، قربانی کی بجائے دوسرے نیک کام کرنے سے ان کے ذمہ سے قربانی ساقط نہ ہوگی اور قربانی نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔ جس طرح کسی پر حج فرض ہوجائے تو اس کو حج کرنا ہی ضروری ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ حج کرنے کی بجائے حج کے سلسلے میں ہونے والے اخراجات کو دوسرے دینی کام میں صرف کرکے حج فرض سے بری الذمہ ہوجائے ۔ ہاں ! جن پر قربانی واجب نہ ہو یا جو واجب قربانی کے بعد مزید نفلی قربانی کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے شرع کی طرف سے اجازت ہے کہ وہ نفلی قربانی کی بجائے دوسرے مفید نیک کاموں میں اپنا پیسہ صرف کرسکتے ہیں۔ فتاوی ھندیۃ میں ہے: "وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَقُومُ غَيْرُهَا مَقَامَهَا فِي الْوَقْتِ، حَتَّى لَوْ تَصَدَّقَ بِعَيْنِ الشَّاةِ أَوْ قِيمَتِهَا فِي الْوَقْتِ لَا يُجْزِئُهُ عَنْ الْأُضْحِيَّةِ"۔ اھ (ج٥, ص٣٦٣, کتاب الاضحیۃ, الباب الاول فی تفسیرھا ورکنھا وصفتھا الخ , مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مثلاً بجائے قربانی اس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے ۔" اھ (بہار شریعت , حصہ ١٥, ص٣٣٥, مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ جل جلالہ ورسولہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...