Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1474
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.9K Views
مبارک راتوں کاایک نہایت ضروری عمل | مبارک راتوں کی عبادت
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مبارک راتوں کاایک نہایت ضروری عمل | مبارک راتوں کی عبادت
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مبارک راتوں کاایک نہایت ضروری عمل
قضا ہرروز کی نماز کی فقط بیس رکعتوں کی ہوتی ہے ۔دو فرض فجر کے ، چارظہر ،چار عصر ، تین مغرب ، چار عشا کے تین وتر۔ اور قضا میں یوں نیت کرنی ضروری ہے کہ نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا پہلی ظہر جو مجھ سے قضا ہوئی ، اسی طرح ہمیشہ ہر نماز میں کیا کرے اور جس پر قضا نمازیںبہت کثرت سے ہیں وہ آسانی کے لیے اگریوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع اور ہر سجدہ میں تین تین بار’’ سبحان ربی العظیم،سبحان ربی الاعلی‘‘ کی جگہ صرف ایک بار کہے، مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہیے کہ جب آدمی رکوع میںپورا پہنچ جائے اس وقت سبحان کا سین شروع کرے اور جب عظیم کا میم ختم کرے اس وقت رکوع سے سراٹھائے اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اس وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کرلے اس وقت سجدہ سے سر اٹھائے۔ بہت سے لوگ جورکوع سجدہ میں آتے جاتے یہ تسبیح پڑھتے ہیں بہت غلطی کرتے ہیں ایک تخفیف کثرت قضا والوں کی یہ ہوسکتی ہے ، دوسری تخفیف یہ کہ فرضوں کی تیسر ی ا ور چوتھی رکعت میں الحمد شریف کی جگہ سُبْحَانَ اﷲِ، سُبْحَانَ اﷲِ،سُبْحَانَ اﷲِ تین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں مگر وہی خیال یہاں بھی ضروری ہے کہ سیدھے کھڑے ہو کرسُبْحَانَ اﷲِشروع کریںاور سُبْحَانَ اﷲِ پورے کھڑے کھڑے کہہ کر رکوع کے لیے سر جھکائیں ، یہ تخفیف فقط فرضوں کی تیسری چوتھی رکعت میں ہے۔ وتروں کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورت دونوں ضرورپڑھی جائیں، تیسری تخفیف پہلی التحیات کے بعد دونوں درودوں اور دعا کی جگہ صرف اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ کہہ کر سلام پھیردیں چوتھی تخفیف وتروں کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ اﷲاکبر کہہ کر فقط ایک یا تین بار’’ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ‘‘ کہے ۔واﷲتعالیٰ اعلم(فتاویٰ رضویہ جلدسوم،ص ۶۲۱،۶۲۲) اللہ رب العزت صاحب معراج صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ وطفیل ہم سب کوصراط مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمینمعراج حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مترجم مولانامظہر حسین علیمی
Kutubahu & Verified by:
<h2>مبارک راتوں کاایک نہایت ضروری عمل</h2> قضا ہرروز کی نماز کی فقط بیس رکعتوں کی ہوتی ہے ۔دو فرض فجر کے ، چارظہر ،چار عصر ، تین مغرب ، چار عشا کے تین وتر۔ اور قضا میں یوں نیت کرنی ضروری ہے کہ نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا پہلی ظہر جو مجھ سے قضا ہوئی ، اسی طرح ہمیشہ ہر نماز میں کیا کرے اور جس پر قضا نمازیںبہت کثرت سے ہیں وہ آسانی کے لیے اگریوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع اور ہر سجدہ میں تین تین بار’’ سبحان ربی العظیم،سبحان ربی الاعلی‘‘ کی جگہ صرف ایک بار کہے، مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہیے کہ جب آدمی رکوع میںپورا پہنچ جائے اس وقت سبحان کا سین شروع کرے اور جب عظیم کا میم ختم کرے اس وقت رکوع سے سراٹھائے اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اس وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کرلے اس وقت سجدہ سے سر اٹھائے۔ بہت سے لوگ جورکوع سجدہ میں آتے جاتے یہ تسبیح پڑھتے ہیں بہت غلطی کرتے ہیں ایک تخفیف کثرت قضا والوں کی یہ ہوسکتی ہے ، دوسری تخفیف یہ کہ فرضوں کی تیسر ی ا ور چوتھی رکعت میں الحمد شریف کی جگہ سُبْحَانَ اﷲِ، سُبْحَانَ اﷲِ،سُبْحَانَ اﷲِ تین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں مگر وہی خیال یہاں بھی ضروری ہے کہ سیدھے کھڑے ہو کرسُبْحَانَ اﷲِشروع کریںاور سُبْحَانَ اﷲِ پورے کھڑے کھڑے کہہ کر رکوع کے لیے سر جھکائیں ، یہ تخفیف فقط فرضوں کی تیسری چوتھی رکعت میں ہے۔ وتروں کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورت دونوں ضرورپڑھی جائیں، تیسری تخفیف پہلی التحیات کے بعد دونوں درودوں اور دعا کی جگہ صرف اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ کہہ کر سلام پھیردیں چوتھی تخفیف وتروں کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ اﷲاکبر کہہ کر فقط ایک یا تین بار’’ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ‘‘ کہے ۔واﷲتعالیٰ اعلم(فتاویٰ رضویہ جلدسوم،ص ۶۲۱،۶۲۲) اللہ رب العزت صاحب معراج صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ وطفیل ہم سب کوصراط مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین <h4 class="entry-title title"><a href="https://www.sadaeislam.in/blog/meraje-habeeb-sallahu-alaihe/">معراج حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مترجم مولانامظہر حسین علیمی</a></h4>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...