Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

متولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

متولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Reference 1487 September 18, 2025 9,269 views
اصل سوالمتولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

متولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں ہمارے علاقے میں ایک مسجد کے متولی نے کہا یہ مسجد میری ملکیت ہے اور میں اس کا مالک ہوں ہو یہاں صرف میری حکومت چلے گی ز ید جو اس مسجد کے پاس میں ہی رہتا ہے ہے اور اس مسجد کا سابق امام بھی ہے اس نے مسجد میں جانا ترک کر دیا ہے ہے اور کہتا ہے کہ اس مسجد میں نماز درست نہیں ہے کیوںکہ متولی نے اسے اپنی ملکیت بنالی ہے جواب طلب امر یہ ہی کہ کیا زید کا قول درست ہے اور اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہیں بینواتوجروا …محمد فاروق رضا بیگ رضوی الجواب بعون الملک الوھاب متولی کا یہ کہنا کہ” یہ مسجد میری ملکیت ہے اور میں اس کا مالک ہوں ہو یہاں صرف میری حکومت چلے گی”محض باطل ہے. قرآن مجید میں ہے : وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (سورۃ الجن :١٨) امام اہل سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ” اور متولی کا کہنا کہ مسجد ہماری ہے ہم جو چاہیں کریں محض باطل ہے،مسجدیں ﷲ عزوجل کی ہیں ان المسٰجد للہ فلا تدعوا مع ﷲ احدا (یقینا مسجدیں ﷲ تعالٰی کی ہیں تو ﷲ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔) اُس میں وہی کیا جائے گا جوبحکم شرع ہے اور اس کا یہ زعم باطل ہے کہ مقتدی پُوچھ نہیں سکتے بلکہ امام ومؤذن مقرر کرنے میں متولی کا اختیار نہیں جبکہ خود بانی مسجد اس کے اقارب میں نہ ہو امام ومؤذن کے نصب میں پہلا اختیار بانی پھر اس کی اولاد واقارب کا ہے اور دوسرااختیار مقتدیوں کاہے یہ بھی جبکہ جس کو بانی مقرر کرنا چاہتا ہے اور جسے مقتدی چاہتے ہیں دونوں یکساں ہوں، اور اگر جسے یہ چاہتے ہیں وہی شرعاً اولیٰ ہے تو انھیں کا اختیار مانا جائے گا متولی اس بارے میں کوئی چیز نہیں۔(٦ کتاب الصلوۃ ص ٦١٤) مزید فرماتے ہیں : مال وقف پر دعوٰی ملک تو کسی کو نہیں ہوسکتا، ہاں دعوٰی تصرف متولی کو ہے، اگر متولی نہ ہوتو اہل محلہ کو اختیار ہے، اگر انہوں نے اس شخص یا اشخاص کو متولی کردیا ہے تو اس کو اختیار مل سکتا ہے، وﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ ج ١٦ ص ١٥٠) جب یہ ثابت ہوگیا کہ مسجد کسی کی ذاتی ملکیت نہیں تو سابق امام زید کا اس مسجد میں نہ جانا اور یہ کہنا کہ اس میں نماز صحیح نہیں غلط ہے. قرآن مجید میں ہے: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (البقرۃ :١١٤) تفسير الألوسي روح المعانی میں ہے: “وكني بذكر اسم الله تعالى عما يوقع في المساجد من الصلوات والتقربات إلى الله تعالى بالأفعال القلبية والقالبية المأذون بفعلها فيها. وسعى في خرابها أي هدمها وتعطيلها”(١/ ٣٦٢) تفسير الرازي میں ہے: “المسألة الخامسة: السعي في تخريب المسجد قد يكون لوجهين. أحدهما: منع المصلين والمتعبدين والمتعهدين له من دخوله فيكون ذلك تخريبا. والثاني: بالهدم والتخريب”(٤/ ١٢) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٩ رجب ١٤٤٣/ ٢ مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.