Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #536 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.3K Views

محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

محراب میں کھڑے ہونے کی کراہت کیوں | محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

١۔مفتیان کرام سے دریافت ہے کہ کیا محراب اور ممبر حدود مسجد میں داخل ہیں یا خارج؟

۲۔امام کو نماز پڑھاتے وقت جو محراب سے باہر قدم رکھنے کے لئے حکم ہے یہ کس وجہ سے ہے کیا محراب کے خارج مسجد ہونے کی بنیاد پر یا اورکوئی وجہ ہے تفصیلاً بیان فرمادیں؟

المستفتی:محمد فرمان

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

١ محراب مسجد میں داخل ہے

٢ ) امام کا بلا ضرورت محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور یہ کراہت اس سبب نہیں کہ وہ خارج مسجد ہے بلکہ اختلاف مکانین کے شبہ کے سبب ۔

ردالمحتار میں ہے “ﻓﻲ اﻟﻮﻟﻮاﻟﺠﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻀﻖ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﻤﻦ ﺧﻠﻒ اﻹﻣﺎﻡ ﻻ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﻟﻪ ﺫﻟﻚ ﻷﻧﻪ ﻳﺸﺒﻪ ﺗﺒﺎﻳﻦ المکانین اﻧﺘﻬﻰ. ﻳﻌﻨﻲ ﻭﺣﻘﻴﻘﺔ اﺧﺘﻼﻑ اﻟﻤﻜﺎﻥ ﺗﻤﻨﻊ اﻟﺠﻮاﺯ ﻓﺸﺒﻬﺔ اﻻﺧﺘﻼﻑ ﺗﻮﺟﺐ اﻟﻜﺮاﻫﺔ والمحراب ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﺼﻮﺭﺗﻪ ﻭﻫﻴﺌﺘﻪ اﻗﺘﻀﺖ ﺷﺒﻬﺔ اﻻﺧﺘﻼﻑ اﻩـ ﻣﻠﺨﺼﺎ. قلت ﺃﻱ ﻷﻥ المحراب ﺇﻧﻤﺎ ﺑﻨﻲ ﻋﻼﻣﺔ لمحل ﻗﻴﺎﻡ اﻹﻣﺎﻡ ﻟﻴﻜﻮﻥ ﻗﻴﺎﻣﻪ ﻭﺳﻂ اﻟﺼﻒ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ اﻟﺴﻨﺔ ﻻ ﻷﻥ ﻳﻘﻮﻡ ﻓﻲ ﺩاﺧﻠﻪ ﻓﻬﻮ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﺑﻘﺎﻉ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﻜﻦ ﺃﺷﺒﻪ ﻣﻜﺎﻧﺎ ﺁﺧﺮ ﻓﺄﻭﺭﺙ اﻟﻜﺮاﻫﺔ ﻭﻻ ﻳﺨﻔﻰ ﺣﺴﻦ ﻫﺬا اﻟﻜﻼﻡ ﻓﺎﻓﻬﻢ” ۔ 

(ردالمحتار،ج٢،ص٥٠٠)

ولوالجیہ وغیرہ میں ہے جب امام کے پیچھے والے نمازیوں کے لئے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کو محراب میں قیام نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا ۔ انتہی ۔ یعنی مکان کا حقیقۃً اختلاف جوازِ نماز سے مانع ہے اور جہاں اختلافِ مکان کا شبہ ہو وہاں کراہت ہو گی اور محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیئت اختلافِ مکان کا شُبہ پیدا کرتی ہے۔ اھ ملخصا۔

میں(شامی) کہتا ہوں محراب کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیام امام کی علامت ہو تاکہ اس کاقیام صف کے درمیان ہو جیسا کہ یہ سنت ہے ۔ یہ مقصد نہیں کہ امام محراب کے اندرکھڑا ہو۔ تو محراب اگرچہ مسجد کاہی حصہ ہے لیکن ایک دوسرے مقام کے مشابہ ہے لہٰذا اس سے کراہت ہوگی۔ اس کلام کاحسن واضح ہے اسے اچھی طرح محفوظ کرو۔

واللہ تعالی اعلم

مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٣١جنوری ٢٠١٩

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">محراب میں کھڑے ہونے کی کراہت کیوں | محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا حکم</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم ورحمتہ اللہ</p> <p style="direction: rtl;">١۔مفتیان کرام سے دریافت ہے کہ کیا محراب اور ممبر حدود مسجد میں داخل ہیں یا خارج؟</p> <p style="direction: rtl;">۲۔امام کو نماز پڑھاتے وقت جو محراب سے باہر قدم رکھنے کے لئے حکم ہے یہ کس وجہ سے ہے کیا محراب کے خارج مسجد ہونے کی بنیاد پر یا اورکوئی وجہ ہے تفصیلاً بیان فرمادیں؟</p> <p style="direction: rtl;">المستفتی:محمد فرمان</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">١ محراب مسجد میں داخل ہے</p> <p style="direction: rtl;">٢ ) امام کا بلا ضرورت محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور یہ کراہت اس سبب نہیں کہ وہ خارج مسجد ہے بلکہ اختلاف مکانین کے شبہ کے سبب ۔</p> <p style="direction: rtl;">ردالمحتار میں ہے "<em>ﻓﻲ اﻟﻮﻟﻮاﻟﺠﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻀﻖ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﻤﻦ ﺧﻠﻒ اﻹﻣﺎﻡ ﻻ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﻟﻪ ﺫﻟﻚ ﻷﻧﻪ ﻳﺸﺒﻪ ﺗﺒﺎﻳﻦ المکانین اﻧﺘﻬﻰ. ﻳﻌﻨﻲ ﻭﺣﻘﻴﻘﺔ اﺧﺘﻼﻑ اﻟﻤﻜﺎﻥ ﺗﻤﻨﻊ اﻟﺠﻮاﺯ ﻓﺸﺒﻬﺔ اﻻﺧﺘﻼﻑ ﺗﻮﺟﺐ اﻟﻜﺮاﻫﺔ والمحراب ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﺼﻮﺭﺗﻪ ﻭﻫﻴﺌﺘﻪ اﻗﺘﻀﺖ ﺷﺒﻬﺔ اﻻﺧﺘﻼﻑ اﻩـ ﻣﻠﺨﺼﺎ. قلت ﺃﻱ ﻷﻥ المحراب ﺇﻧﻤﺎ ﺑﻨﻲ ﻋﻼﻣﺔ لمحل ﻗﻴﺎﻡ اﻹﻣﺎﻡ ﻟﻴﻜﻮﻥ ﻗﻴﺎﻣﻪ ﻭﺳﻂ اﻟﺼﻒ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ اﻟﺴﻨﺔ ﻻ ﻷﻥ ﻳﻘﻮﻡ ﻓﻲ ﺩاﺧﻠﻪ ﻓﻬﻮ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﺑﻘﺎﻉ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﻜﻦ ﺃﺷﺒﻪ ﻣﻜﺎﻧﺎ ﺁﺧﺮ ﻓﺄﻭﺭﺙ اﻟﻜﺮاﻫﺔ ﻭﻻ ﻳﺨﻔﻰ ﺣﺴﻦ ﻫﺬا اﻟﻜﻼﻡ ﻓﺎﻓﻬﻢ" ۔ </em></p> <p style="direction: rtl;">(ردالمحتار،ج٢،ص٥٠٠)</p> <p style="direction: rtl;">ولوالجیہ وغیرہ میں ہے جب امام کے پیچھے والے نمازیوں کے لئے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کو محراب میں قیام نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا ۔ انتہی ۔ یعنی مکان کا حقیقۃً اختلاف جوازِ نماز سے مانع ہے اور جہاں اختلافِ مکان کا شبہ ہو وہاں کراہت ہو گی اور محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیئت اختلافِ مکان کا شُبہ پیدا کرتی ہے۔ اھ ملخصا۔</p> <p style="direction: rtl;">میں(شامی) کہتا ہوں محراب کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیام امام کی علامت ہو تاکہ اس کاقیام صف کے درمیان ہو جیسا کہ یہ سنت ہے ۔ یہ مقصد نہیں کہ امام محراب کے اندرکھڑا ہو۔ تو محراب اگرچہ مسجد کاہی حصہ ہے لیکن ایک دوسرے مقام کے مشابہ ہے لہٰذا اس سے کراہت ہوگی۔ اس کلام کاحسن واضح ہے اسے اچھی طرح محفوظ کرو۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالی اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>مفتی شان محمد المصباحی القادری</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></p> <p style="direction: rtl;">٣١جنوری ٢٠١٩</p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...