Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #13
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.4K Views
محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے ،محراب کے اندر نماز
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے ،محراب کے اندر نماز
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
عنوان
محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی یے یا نہیں
سوال استاذی الکریم کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ کیا نماز جمعہ کی امامت محراب کے اندر سے ہو سکتی ہے ۔ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ سائل۔ صغیر عالم علیمی گلاب پور سسوا کٹیا ضلع مہوتری نیپالالجواب : محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے
بلا ضرورت امام کو محراب کے اندر کھڑا ہونا مکروہ ہے ۔ اوراگر ضرورت ہے مثلا نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جمعہ یا کسی دوسری نماز میں امام محراب میں اور مقتدی دروں میں کھڑے ہوں تو کوئی کراہت نہیں ۔ یوں ہی بارش کی وجہ سے مسجد کا مسقف حصہ تنگ پڑجائے تو بھی امام کے محراب میں اور مقتدیوں کے در میں کھڑا ہونے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔ ورنہ امام کا محراب میں اس طرح ہوناکہ حالت قیام میں پاؤں محراب کے اندر ہوں مکروہ ہے ۔ ہاں! اگر پاوں باہر ہوں اور سجدہ محراب میں ہو تو کراہت نہیں ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” فی الواقع امام کا بے ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ ہے ۔ (ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں) ۔ اور امام کا دَر میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اُسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی بلند نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سِرے سے نماز ہی نہیں ہوگی ۔ اور چارہ گرہ یا کم بلندی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ۔ اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ہے ۔ ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگھہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں ۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے ۔ والضرو رات تبیح المحظورات ۔ رہا اکیلا ، اسکے لئے ضرورت، بے ضرورت محراب میں ،دَر میں مسجد کے حصہ میں کھڑا ہونا اصلاً کراہت نہیں رکھتا ۔ (فتاوی رضویہ ج٣) واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ ٢١/شعبان المعظم ١۴۴٢ھ مزید مطالعہ کریں نماز کےعلاوہ درود ابراہیمی پڑھنا
Kutubahu & Verified by:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ <h3>عنوان</h3> <h3>محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی یے یا نہیں</h3> سوال استاذی الکریم کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ کیا نماز جمعہ کی امامت محراب کے اندر سے ہو سکتی ہے ۔ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ سائل۔ صغیر عالم علیمی گلاب پور سسوا کٹیا ضلع مہوتری نیپال <h2>الجواب : محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے</h2> بلا ضرورت امام کو محراب کے اندر کھڑا ہونا مکروہ ہے ۔ اوراگر ضرورت ہے مثلا نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جمعہ یا کسی دوسری نماز میں امام محراب میں اور مقتدی دروں میں کھڑے ہوں تو کوئی کراہت نہیں ۔ یوں ہی بارش کی وجہ سے مسجد کا مسقف حصہ تنگ پڑجائے تو بھی امام کے محراب میں اور مقتدیوں کے در میں کھڑا ہونے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔ ورنہ امام کا محراب میں اس طرح ہوناکہ حالت قیام میں پاؤں محراب کے اندر ہوں مکروہ ہے ۔ ہاں! اگر پاوں باہر ہوں اور سجدہ محراب میں ہو تو کراہت نہیں ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: " فی الواقع امام کا بے ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ ہے ۔ (ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں) ۔ اور امام کا دَر میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اُسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی بلند نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سِرے سے نماز ہی نہیں ہوگی ۔ اور چارہ گرہ یا کم بلندی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ۔ اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ہے ۔ ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگھہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں ۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے ۔ والضرو رات تبیح المحظورات ۔ رہا اکیلا ، اسکے لئے ضرورت، بے ضرورت محراب میں ،دَر میں مسجد کے حصہ میں کھڑا ہونا اصلاً کراہت نہیں رکھتا ۔ (فتاوی رضویہ ج٣) واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ ٢١/شعبان المعظم ١۴۴٢ھ مزید مطالعہ کریں <a href="https://urdu.masailworld.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%88%db%81-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%af-%d8%a7%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81%db%8c%d9%85-%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7/">نماز کےعلاوہ درود ابراہیمی پڑھنا</a>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...