Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1398 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.3K Views

مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں

اگربکروں میں کوئی مخنث ہو تو اس کا عقیقہ ہوسکتا ہے یانہیں؟ الجواب بعون الملک الوھاب خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی اور عقیقہ جائز نہیں‌‌ کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا فتاوٰی عالمگیری میں ہے:” لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ “ اھ (ج٥ ص٣٦٩ کتاب الاضحیۃ، باب بیان محل اقامۃ الواجب، دار الکتب العلمیۃ) درمختار مع رد المحتار میں ہے:” ولا بالخنثی لان لحمها لاینضج، شرح وہبانیة “ اھ (ج٩ ص٤٧٠ کتاب الاضحیۃ، دارعالم الکتب) یعنی خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیوں کہ اس کا گوشت پکتا نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :” خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا “اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٠ ص٢٥٥/٢٥٦ کتاب الذبائح) اور جن جانوروں کی قربانی نہیں ہوسکتی ان کا عقیقہ بھی نہیں ہوسکتا بہار شریعت میں ہے :” عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہئے جیسا قربانی کے لئے ہوتا ہے ” اھ ( حصہ ١٥ عقیقہ کابیان ج٣ ص٣٥٧) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں</h2> اگربکروں میں کوئی مخنث ہو تو اس کا عقیقہ ہوسکتا ہے یانہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی اور عقیقہ جائز نہیں‌‌ کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا فتاوٰی عالمگیری میں ہے:<span style="color: #339966;"><strong>" لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ "</strong></span> اھ (ج٥ ص٣٦٩ کتاب الاضحیۃ، باب بیان محل اقامۃ الواجب، دار الکتب العلمیۃ) درمختار مع رد المحتار میں ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong>" ولا بالخنثی لان لحمها لاینضج، شرح وہبانیة "</strong></span> اھ (ج٩ ص٤٧٠ کتاب الاضحیۃ، دارعالم الکتب) یعنی خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیوں کہ اس کا گوشت پکتا نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :" خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا "اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٠ ص٢٥٥/٢٥٦ کتاب الذبائح) اور جن جانوروں کی قربانی نہیں ہوسکتی ان کا عقیقہ بھی نہیں ہوسکتا بہار شریعت میں ہے :" عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہئے جیسا قربانی کے لئے ہوتا ہے " اھ ( حصہ ١٥ عقیقہ کابیان ج٣ ص٣٥٧) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...