Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

مدرسہ بنانے کے لیے چندہ سے خریدی گئی زمین کا حکم

مدرسہ بنانے کے لیے چندہ سے خریدی گئی زمین کا حکم
Reference 1701 September 18, 2025 5,451 views
اصل سوالمدرسہ بنانے کے لیے چندہ سے خریدی گئی زمین کا حکم

مدرسہ بنانے کے لیے چندہ سے خریدی گئی زمین کا حکم

السلام عليكم ورحمۃ اللہ برکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام و مفتیانِ عظام۔ مسئلہ ذیل میں کہ ایک گاؤں جس کا نام شنکر پور ضلع بہرائچ ہے اس گاؤں کے لوگوں نے اپنے گاؤں میں ایک مدرسہ(مکتب) بنانے کے لئے اپنے ہی گاؤں کے ایک حافظ صاحب کو تیار کیا کہ آپ چندہ کریں پھر اس چندے سے زمین خرید کر اس میں مکتب بنایا جائے چنانچہ حافظ صاحب اس کے لئے تیار ہوئے اور الحمد لله چندہ بھی ہوا اور چار بیسہ زمین بھی ایک مسلمان بھائی سے خریدی گئی ۔ کچھ دنوں تک وہ زمین پڑی رہی پھر اس زمین کے کچھ حصہ میں مدرسہ بنا اور باقی ایسے ہی پڑی رہی اب وہ مسلمان جس سے زمین خریدی گئی تھی جو گاؤں کی مسجد کا خزانچی بھی ہے اس کا یہ کہنا ہے کہ اب ہم مدرسے کو صرف تین بیسہ زمین دینگے تو حافظ صاحب نے کہا کہ ہم نے تو آپ کو چار بیسہ زمین کا پیسہ دیا تھا تو وہ اس کو مان رہے ہیں کہ حافظ صاحب نے چار بیسہ زمین کا پیسہ دیا تھا لیکن چار بیسہ زمین دینے کے لئے تیار نہیں اور جب حافظ صاحب نے سختی کی تو وہ کہہ رہے ہیں کہ کیا کر لو گے زمین تو میرے نام سے ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں حکم شرع کیا ہے ؟ وہی شخص مسجد میں اذان و اقامت پڑھتا ہے کیا اس کی اذان و اقامت درست ہے؟ اور وہ مسجد کا خزانچی بھی ہے کیا ایسے شخص کو مسجد کا خزانچی بنایا جاسکتا ہے؟ المستفتی محمد مسعود رضا خان مسعودی۔ الجوابـــــــــــــــــــــ جب چندہ دینے والوں نے مدرسہ کی زمین خریدنے کے لیے حافظ صاحب کو پیسے دیے اور حافظ صاحب نے اس مسلمان خزانچی سے زمین خرید لی(جیسا کہ سائل نے لکھا کہ “چار بسوہ زمین ایک مسلمان بھائی سے خریدی گئی”) اگرچہ بیعنامہ رجسٹری نہ کرائی گئی ہو اور پھر مزید برآں پورے چار بسوہ زمین کا دام بھی دے دیا گیا جس کا اعتراف خود بیچنے والے خزانچی کو بھی ہے۔پھر اس کے کچھ حصہ پر مدرسہ تعمیر بھی ہوگیا تو وہ چاروں بسوہ زمین چندہ دینے والوں کی ملکیت میں آکر ان کی طرف سےمدرسہ کے لیے وقف قرار پائے گی۔ کیوں کہ بیع مکمل ہونے کے لیے اسٹامپ اور رجسٹری وغیرہ کچھ ضروری نہیں ہے۔امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “شرع میں گفتگوئے خرید و فروخت کا اعتبار ہے اس کے آگے بیعنامہ کا اعتبارنہیں” (فتاوی رضویہ ج ٧ص٢٢) نیز تحریر فرماتے ہیں: “”بائع پر فرض ہے کہ اپنی اگلی بیع پر قائم رہے شرعا بیع رجسٹری یا اسٹامپ پرلکھا جانا شرعا اصلا ضرور نہیں ۔” (فتاوی رضویہ ج ٧ص ۴٨) یہاں ایک شبہہ ہوتا ہے کہ چندہ دینے والوں نے خریداری اور ملکیت کے بعد اس زمین کو مدرسہ کے لیے زبان سے وقف تو کیا نہیں تو پھر اس زمین کا وقف کیسے مکمل ہوگا؟ اس شبہہ کا ازالہ کرتے ہوئے فقیہ فقید المثال امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جبکہ انہوں نے مدرسہ بنانے کے لئے خالد کو چندہ دیا تو اسے شراء زمین وتعمیر کا ماذون کیا۔ اور ان کا روپیہ ان کے اذن سے اس نے شراء وتعمیر میں صرف کیا ، تو وہ زمین و عمارت تمام مشتریوں اور چندہ دہندوں کی ہوئی، جس کا ایک پیسہ چندہ ہو، اور جس کا ہزار روپے سب شریک ہیں۔ اور جبکہ دینی مدرسہ نفع عام مسلمین کے لئے بنانا مقصود تھا اس میں کسی کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ میں کسی جز کا مالک رہوں، اور اس سے انتفاع ایک مدت محدود تک ہو، پھر میری ملک میں واپس آئے، بلکہ اپنی ملک سے خارج کرکے ہمیشہ کے لئے نفع مسلمین کے واسطے کردینا مقصود ہوتا ہے، اور یہی حاصلِ وقف ہے تو اگرچہ نصّاً وہ سب لفظ وقف نہیں کہتے ، عرفاً دلالۃً وقف کرتے اور وقف ہی سمجھتے ہیں ذخیرہ وخانیہ وعالمگیریہ میں ہے: رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوا فیہا بجماعۃ فان امرھم بالصلٰوۃ فیہا ابدا نصاً بان قال صلوا فیہا ابدا او امرھم بالصلٰوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا وان وقت بالشھر او السنۃ لاتصیر مسجدا۔ تو وہ ایک مکان ہے جس کی زمین وعمارت سب ان سب کی ملکِ مشترک ہو کر ان سب کی طرف سے وقف ہوئی اور حق کہ واقف کو وقف پر ہوتا ہے سب کو بروجہ کمال یکساں حاصل ہوا۔ اس میں کمی بیشی چندہ پر لحاظ نہ ہوگا، کہ یہ حق متجزی نہیں اور حق غیر متجزی ہر شریک کے لئے کاملاً حاصل ہوتا ہے۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص٣٣٦ ، ٣٣٧) اب جب کہ وہ زمین حافظ صاحب نے چندہ دینے والوں کا وکیل بن کر خرید لی اور پھر وہ چندہ دینے والوں کی طرف سے دلالةِ وقف قرار پائی تو محض بیع نامہ رجسٹری نہ ہونے کے باعث خزانچی کا اس زمین کے بارے میں مالکانہ حق ثابت کرنا فضول اور وقف کی زمین پر ظالمانہ قبضہ کی کوشش اور فسق ہے۔وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس زمین کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔اور ایسے شخص کو مسجد کا خزانچی اور موذن نہ رکھا جائےہاں! اگر توبہ اور اصلاح کرلے تو دوبارہ موذن رکھا جاسکتا ہے۔در مختار میں ہے: “ہے:ینزع وجوبا، بزازیۃ، ولو الواقف، درر، فغیرہ بالاولی لو غیرمامون”۔ (در مختار ، کتاب الوقف) فتاوی رضویہ میں ہے: “فاسق کی اذان اگرچہ اقامتِ شعار کاکام دے، مگر اعلام کہ اس کا بڑا کام ہے اُس سے حاصل نہیں ہوتا،نہ فاسق کی اذان پر وقتِ روزہ ونماز میں اعتماد جائز۔لہذا مندوب ہے کہ اگر فاسق نے اذان دی ہوتو اس پر قناعت نہ کریں ،بلکہ دوبارہ مسلمان متقی پھر اذان دے، تو جب تک یہ شخص صدق دل سے تائب نہ ہواُسے ہرگز مؤذن نہ رکھا جائے مسجدسے جُداکردینا ضرور ہے۔” (فتاوی رضویہ ج ٢ص٣٨٨) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١١/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٣/اپریل ٢٠٢٢ء

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.