Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #928 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.3K Views

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں ؟

مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں بعض مقامات پر سینے پر یا ناف کے نیچے رکھتے ہیں درست طریقہ کیا ہے؟ بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ پہلو میں سیدھے رکھے جائیں میت کے سینے پر یا ناف کے نیچے ہاتھ رکھنا غلط اور کفار کا طریقہ ہے ۔ درمختار میں ہے : “ویوضع یداہ فی جانبیہ لا علی صدرہ لانہ من عمل الکفار” اھ ترجمہ : اور میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں نہ کہ سینے پر کیوں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 3، ص: 105، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز) فتاوٰی فیض الرسول میں ہے : میت کا ہاتھ سینے پر رکھنا غلط ہے مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ میت کے پہلو میں رکھے جائیں کما صرح بہ نورالایضاح ” وتوضع یداہ بجنبیہ ولا یجوز وضعھما علی صدرہ “ ترجمہ: یعنی میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں سینے پر رکھنا جائز نہیں ۔ فقہاے کرام نے سینے پر ہاتھ رکھنا اس لیے منع فرمایا کہ یہ یہودیوں اور نصرانیوں کا طریقہ ہے کما قال فی مراقی الفلاح :” لانہ صنع اھل الکتاب “ ترجمہ : اس لیے کہ سینے پر ہاتھ رکھنے کا طریقہ اہل کتاب یعنی یہودی وغیرہ کا ہے ” اھ (نورالایضاح مع مراقی الفلاح ص 286/287 / فتاوٰی فیض الرسول : ج: 1 ص: 442، کتاب الجنائز) بہار شریعت میں ہے : میت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینہ پر نہ رکھیں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ بعض جگہ ناف کے نیچے اس طرح رکھتے ہیں جیسے نماز کے قیام میں یہ بھی نہ کریں” اھ (بہار شریعت : ج: 1 ، ح: 4 ، ص: 816 ، میت کے نہلانے کا بیان ) واللہ تعالٰی اعلم     عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یوپی، انڈیا ١٢ جمادی الاوّل ١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h3>مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں ؟</h3> مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ کہاں رکھے جائیں سینے پر یا پہلو میں بعض مقامات پر سینے پر یا ناف کے نیچے رکھتے ہیں درست طریقہ کیا ہے؟ بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ مردے کو کفن دیتے وقت اس کے ہاتھ پہلو میں سیدھے رکھے جائیں میت کے سینے پر یا ناف کے نیچے ہاتھ رکھنا غلط اور کفار کا طریقہ ہے ۔ درمختار میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><em>"ویوضع یداہ فی جانبیہ لا علی صدرہ لانہ من عمل الکفار" اھ</em></span> ترجمہ : اور میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں نہ کہ سینے پر کیوں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 3، ص: 105، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز) فتاوٰی فیض الرسول میں ہے : میت کا ہاتھ سینے پر رکھنا غلط ہے مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ میت کے پہلو میں رکھے جائیں کما صرح بہ نورالایضاح " <span style="color: #ff0000;"><em>وتوضع یداہ بجنبیہ ولا یجوز وضعھما علی صدرہ "</em></span> ترجمہ: یعنی میت کے ہاتھ پہلو میں رکھے جائیں سینے پر رکھنا جائز نہیں ۔ فقہاے کرام نے سینے پر ہاتھ رکھنا اس لیے منع فرمایا کہ یہ یہودیوں اور نصرانیوں کا طریقہ ہے <em><span style="color: #ff0000;">کما قال فی مراقی الفلاح :" لانہ صنع اھل الکتاب "</span></em> ترجمہ : اس لیے کہ سینے پر ہاتھ رکھنے کا طریقہ اہل کتاب یعنی یہودی وغیرہ کا ہے " اھ (نورالایضاح مع مراقی الفلاح ص 286/287 / فتاوٰی فیض الرسول : ج: 1 ص: 442، کتاب الجنائز) بہار شریعت میں ہے : میت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینہ پر نہ رکھیں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ بعض جگہ ناف کے نیچے اس طرح رکھتے ہیں جیسے نماز کے قیام میں یہ بھی نہ کریں" اھ (بہار شریعت : ج: 1 ، ح: 4 ، ص: 816 ، میت کے نہلانے کا بیان ) واللہ تعالٰی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>    عبدالقادر المصباحی الجامعی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یوپی، انڈیا </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٢ جمادی الاوّل ١٤٤٣ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...