Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1980 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.3K Views

مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مرغی مرغا ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو

سوال: مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟ سائل : عمیر احمد، مسجد وخانقاہ امدادیہ امداد نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب اگر ذبح کے دوران مرغی کا پورا گلا کٹ گیا یعنی الگ ہوگیا تو ایسی مرغی کا گوشت حلال ہے، البتہ جان بوجھ کر اتنا زیادہ ذبح کرنا مکروہ ہے۔ فتاویٰ ھندیہ میں موجود ہے.. (کتاب الذبائح، 287/5) ویستحب الاکتفاء بقطع الاوداج ولا یباین الراس ولو فعل یکرہ۔ کسی بھی حلال جانور اور پرندے کو ذبح کرتے وقت قصداً گردن الگ کردینا مکروہ عمل ہے، کیونکہ اس میں جانور کو ضرورت سے زیادہ تکلیف دینا پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر ایک مخلوق کے ساتھ احسان و خوبی کا برتاؤ کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اگر کسی (مجرم) کو قتل کرو تو مناسب صورت سے قتل کرو (کہ اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو) اور جانور کو ذبح کرو تو مناسب صورت سے ذبح کرو (کہ زیادہ تکلیف نہ ہوجائے) اور چھری تیز رکھو ۔ اس طرح جانور کے لئے سہولت کی کوشش کرو (یعنی چھری پھیرنے سے پہلے اور چھری پھیرنے کے بعد ایسا کام نہ کرو جس سے جانور کو تکلیف پہنچے۔ اور یہ یاد رکھیں کہ. جانور اور پرندہ اس صورت میں بھی حلال ہوجاتا ہے اور اس کا کھانا بلاکراہت درست ہے، اس لیے کہ ذبح میں جن رگوں کا کاٹنا ضروری ہے وہ اس صورت میں بھی کٹ جاتی ہیں، اور اگر غلطی سے گردن الگ ہوجائے تو مکروہ بھی نہیں۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ۔ (صحیح المسلم، رقم : ١٩٥٥) (وَ) كُرِهَ كُلُّ تَعْذِيبٍ بِلَا فَائِدَةٍ مِثْلُ (قَطْعِ الرَّأْسِ وَالسَّلْخِ قَبْلَ أَنْ تَبْرُدَ) أَيْ تَسْكُنَ عَنْ الِاضْطِرَابِ۔ (شامی : ٦/٢٩٦) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>مرغی مرغا ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو</h2> سوال: مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟ سائل : عمیر احمد، مسجد وخانقاہ امدادیہ امداد نگر مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> اگر ذبح کے دوران مرغی کا پورا گلا کٹ گیا یعنی الگ ہوگیا تو ایسی مرغی کا گوشت حلال ہے، البتہ جان بوجھ کر اتنا زیادہ ذبح کرنا مکروہ ہے۔ فتاویٰ ھندیہ میں موجود ہے.. (کتاب الذبائح، 287/5) ویستحب الاکتفاء بقطع الاوداج ولا یباین الراس ولو فعل یکرہ۔ کسی بھی حلال جانور اور پرندے کو ذبح کرتے وقت قصداً گردن الگ کردینا مکروہ عمل ہے، کیونکہ اس میں جانور کو ضرورت سے زیادہ تکلیف دینا پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر ایک مخلوق کے ساتھ احسان و خوبی کا برتاؤ کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اگر کسی (مجرم) کو قتل کرو تو مناسب صورت سے قتل کرو (کہ اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو) اور جانور کو ذبح کرو تو مناسب صورت سے ذبح کرو (کہ زیادہ تکلیف نہ ہوجائے) اور چھری تیز رکھو ۔ اس طرح جانور کے لئے سہولت کی کوشش کرو (یعنی چھری پھیرنے سے پہلے اور چھری پھیرنے کے بعد ایسا کام نہ کرو جس سے جانور کو تکلیف پہنچے۔ اور یہ یاد رکھیں کہ. جانور اور پرندہ اس صورت میں بھی حلال ہوجاتا ہے اور اس کا کھانا بلاکراہت درست ہے، اس لیے کہ ذبح میں جن رگوں کا کاٹنا ضروری ہے وہ اس صورت میں بھی کٹ جاتی ہیں، اور اگر غلطی سے گردن الگ ہوجائے تو مکروہ بھی نہیں۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ۔ (صحیح المسلم، رقم : ١٩٥٥) (وَ) كُرِهَ كُلُّ تَعْذِيبٍ بِلَا فَائِدَةٍ مِثْلُ (قَطْعِ الرَّأْسِ وَالسَّلْخِ قَبْلَ أَنْ تَبْرُدَ) أَيْ تَسْكُنَ عَنْ الِاضْطِرَابِ۔ (شامی : ٦/٢٩٦) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <strong>کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong> <strong>خادم التدریس والافتا</strong> <strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...