Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #761 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.7K Views

مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ / مرغی کا گوشت چمڑے کے ساتھ کھانا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ / مرغی کا گوشت چمڑے کے ساتھ کھانا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

سوال : مارکیٹ میں مرغی ذبح کرنے کے فورا بعد پانی ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اسکا پر آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے اور پھر لوگ چمڑے کے ساتھ اس کا گوشت کھا جاتے ہیں اس بارے میں حکم شرع کیا ہے ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مرغ کو ذبح کرنے کے بعد عام طور پر جو یہ طریقہ پایا جاتا ہے کہ اسے کھولتے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ شرعی حکم کا احترام کرتے ہوئے یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ گرم پانی میں ڈالنے سے پہلے پیٹ چاک کرکے غلاظت وغیرہ نکال دیں اور بدن پر لگی نجاست صاف کر دیں اور محل ذبح پر جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو کر گرم پانی میں ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد نکال کر پر صاف کر دیں تو اس کو کھال کے ساتھ کھانا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت اور قباحت نہیں، ہاں بغیر نجاست دور کئے اور صاف کئےاس کو پانی میں ڈال دیا تو اب اس مرغ کا سارا بدن اوپر سے ناپاک ہو جاتا ہے اس وجہ سے اسے بغیر دھوئے کھال کے ساتھ کھانا ناجائز ہے کہ یہ ناپاک کھال کو کھانا ہوگا. جب کھال ناپاک ہے تو اس کی وجہ سے شوربا، پھر گوشت بھی ناپاک ہوگا کہ ناپاک پانی گوشت کے اندر سرایت کر جائے گا. ہاں اگر پہلے تین بار دھو کرپاک کر لیں پھر پکائیں تو کھال کے ساتھ بھی کھانا حلال ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟</h2> سوال : مارکیٹ میں مرغی ذبح کرنے کے فورا بعد پانی ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اسکا پر آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے اور پھر لوگ چمڑے کے ساتھ اس کا گوشت کھا جاتے ہیں اس بارے میں حکم شرع کیا ہے ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مرغ کو ذبح کرنے کے بعد عام طور پر جو یہ طریقہ پایا جاتا ہے کہ اسے کھولتے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ شرعی حکم کا احترام کرتے ہوئے یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ گرم پانی میں ڈالنے سے پہلے پیٹ چاک کرکے غلاظت وغیرہ نکال دیں اور بدن پر لگی نجاست صاف کر دیں اور محل ذبح پر جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو کر گرم پانی میں ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد نکال کر پر صاف کر دیں تو اس کو کھال کے ساتھ کھانا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت اور قباحت نہیں، ہاں بغیر نجاست دور کئے اور صاف کئےاس کو پانی میں ڈال دیا تو اب اس مرغ کا سارا بدن اوپر سے ناپاک ہو جاتا ہے اس وجہ سے اسے بغیر دھوئے کھال کے ساتھ کھانا ناجائز ہے کہ یہ ناپاک کھال کو کھانا ہوگا. جب کھال ناپاک ہے تو اس کی وجہ سے شوربا، پھر گوشت بھی ناپاک ہوگا کہ ناپاک پانی گوشت کے اندر سرایت کر جائے گا. ہاں اگر پہلے تین بار دھو کرپاک کر لیں پھر پکائیں تو کھال کے ساتھ بھی کھانا حلال ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...