Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1643
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.5K Views
مرنے کے بعد انسان کی روحیں کہاں رہتی ہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مرنے کے بعد انسان کی روحیں کہاں رہتی ہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مرنے کے بعد انسان کی روحیں کہاں رہتی ہیں ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ کہ بارے میں کہ مرنے کے بعد انسان کی روحیں کہاں رہتی ہیں،اور کیا وہ دوبارہ جنم لیتی ہیں ،نیز روحیں قبر پر آنے والوں کو پہچان تی ہیں ؟ قاری سلطان ضلع چنیوٹ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں : مرنے کے بعد سب کی روحیں مرتبہ کے اعتبار سے الگ الگ جگہوں پر رہتی ہیں ، بعض کی روحیں قبر پر، اور بعض کی زم زم شریف کے کنویں میں، بعض کی آسمان و زمین کے درمیان ، بعض کی دوسرے آسمان سے لے کر ساتویں آسمان تک، اور بعض کی آسمانوں سے بھی بلند، اور بعض کی روحیں زیرِعرش قنزیلوں میں ،اور بعض کی اعلیٰ علیین میں(یعنی،جنت کے نہایت ہی بلندوبالا مکانات میں ،مگر کہیں بھی ہوں اپنے جسم سے ان کا تعلق بدستور باقی رہتا ہے، جوکوئ قبر کے پاس آتا ہے اسے دیکھتے پہچانتے ہیں اور اس کی بات بھی سنتے ہیں، بلکہ روح کا دیکھنا قُربِ قبر ہی سے مخصوص نہیں ،اس کی مثال(حدیث شریف)میں یوں فرمائی ہے کہ ایک طائر(پرندہ پہلے پنجرے میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا: آئمۂ کرام فرماتے ہیں : ان النفوس القدسیۃ اذاتجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الا علیٰ وترٰی و تسمع الکل کالمشاھد: یعنی بے شک پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں عالمِ بالا سے مل جاتی ہیں، اور سب کچھ ایسا دیکھتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں: حدیث شریف میں ہے : اذا مات المؤمن یخلی سربه یسرح حیث شاء: یعنی جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہیں جہاں چاہےجائے . شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاویٰ عزیزیہ میں فرماتےہیں ،روح راقُرب وبُدمکانی یکساں است:bیعنی روح کے لئے کوئ جگہ دور یا نزدیک نہیں ،بلکہ سب جگہ برا برہے: (اور کافروں کی خبیث روحیں بعض کی ان کے مرگھٹ یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہ برہُوت میں جو( یمن میں ایک نالہ ہے،بعض کی پہلی دوسری سے لے کر ساتویں زمین تک، بعض کی اس سے بھی نیچے سجین میں(یعنی،جہنم کی ایک وادی کانام ،اور وہ کہیں بھی ہوں جو اس کی قبر یا مرگھٹ پر آتا ہے اسے دیکھتے پہچانتے بات سنتے ہیں ،مگر کہیں آنے جانے کا اختیار نہیں کیونکہ قید ہیں،، (اورجو یہ خیال کرتا ہے کہ روح کسی دوسرے انسان یا جانور کے جسم میں چلی جاتی ہیں ،جس کوتناسخ اورآواگون کہتے ہیں ،محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے، ( موت کا معنی روح کاجسم سے جداہو جاناہیں، نہ یہ کہ روح مر جاتی ہوجو شخص روح کو فنا مانے وہ بدمذہب ہے: (بہار شریعت حصہ1صفحہ100تا104) (فتاویٰ فقیہ ملت جلد1 صفحہ66) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضامحمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>مرنے کے بعد انسان کی روحیں کہاں رہتی ہیں ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ کہ بارے میں کہ مرنے کے بعد انسان کی روحیں کہاں رہتی ہیں،اور کیا وہ دوبارہ جنم لیتی ہیں ،نیز روحیں قبر پر آنے والوں کو پہچان تی ہیں ؟ قاری سلطان ضلع چنیوٹ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں : مرنے کے بعد سب کی روحیں مرتبہ کے اعتبار سے الگ الگ جگہوں پر رہتی ہیں ، بعض کی روحیں قبر پر، اور بعض کی زم زم شریف کے کنویں میں، بعض کی آسمان و زمین کے درمیان ، بعض کی دوسرے آسمان سے لے کر ساتویں آسمان تک، اور بعض کی آسمانوں سے بھی بلند، اور بعض کی روحیں زیرِعرش قنزیلوں میں ،اور بعض کی اعلیٰ علیین میں(یعنی،جنت کے نہایت ہی بلندوبالا مکانات میں ،مگر کہیں بھی ہوں اپنے جسم سے ان کا تعلق بدستور باقی رہتا ہے، جوکوئ قبر کے پاس آتا ہے اسے دیکھتے پہچانتے ہیں اور اس کی بات بھی سنتے ہیں، بلکہ روح کا دیکھنا قُربِ قبر ہی سے مخصوص نہیں ،اس کی مثال(حدیث شریف)میں یوں فرمائی ہے کہ ایک طائر(پرندہ پہلے پنجرے میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا: آئمۂ کرام فرماتے ہیں : ان النفوس القدسیۃ اذاتجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الا علیٰ وترٰی و تسمع الکل کالمشاھد: یعنی بے شک پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں عالمِ بالا سے مل جاتی ہیں، اور سب کچھ ایسا دیکھتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں: حدیث شریف میں ہے : اذا مات المؤمن یخلی سربه یسرح حیث شاء: یعنی جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہیں جہاں چاہےجائے . شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاویٰ عزیزیہ میں فرماتےہیں ،روح راقُرب وبُدمکانی یکساں است:bیعنی روح کے لئے کوئ جگہ دور یا نزدیک نہیں ،بلکہ سب جگہ برا برہے: (اور کافروں کی خبیث روحیں بعض کی ان کے مرگھٹ یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہ برہُوت میں جو( یمن میں ایک نالہ ہے،بعض کی پہلی دوسری سے لے کر ساتویں زمین تک، بعض کی اس سے بھی نیچے سجین میں(یعنی،جہنم کی ایک وادی کانام ،اور وہ کہیں بھی ہوں جو اس کی قبر یا مرگھٹ پر آتا ہے اسے دیکھتے پہچانتے بات سنتے ہیں ،مگر کہیں آنے جانے کا اختیار نہیں کیونکہ قید ہیں،، (اورجو یہ خیال کرتا ہے کہ روح کسی دوسرے انسان یا جانور کے جسم میں چلی جاتی ہیں ،جس کوتناسخ اورآواگون کہتے ہیں ،محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے، ( موت کا معنی روح کاجسم سے جداہو جاناہیں، نہ یہ کہ روح مر جاتی ہوجو شخص روح کو فنا مانے وہ بدمذہب ہے: (بہار شریعت حصہ1صفحہ100تا104) (فتاویٰ فقیہ ملت جلد1 صفحہ66) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضامحمد عمران عطاری مدنی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...