Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

مروجہ تعزیہ داری اور ڈھول تاشے بجانا کیسا ہے ؟

مروجہ تعزیہ داری اور ڈھول تاشے بجانا کیسا ہے ؟
Reference 1219 September 18, 2025 9,006 views
اصل سوالمروجہ تعزیہ داری اور ڈھول تاشے بجانا کیسا ہے ؟

مروجہ تعزیہ داری اور ڈھول تاشے بجانا کیسا ہے ؟

سوال: حضور والا کی بارگاہ میں یہ عریضہ پیش خدمت ہے کہ مروجہ تعزیہ داری اور ڈھول تاشے بجانا اس پر کوئی حوالہ پیش کریں بڑی مہربانی ہوگی حضور آپکی۔ ساٸل۔ محمد فاروق احمد نظامی  الجواب بتوفیق الملک الوھاب اس پاک و محترم ماہ محرم میں جاہلوں کی بڑھتی بدعات شنیعہ اہلِ دانش و بینش پر پوشیدہ نہیں ، انہیں میں سے ایک بدعت شنیعہ مروجہ تعزیہ داری ہے. اسمیں کوئی شرعی ممانعت نہیں تھی کہ لوگ حضرات شہدائے کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی ارواح طیبات کے ایصال ثواب پر اختصار کرتے اور روضۂ امام پاک کی نقل کی حاجت تھی تو بقدر شوق و محبت ، برکت و زیارت کی غرض سے بنا کر اپنے اپنے مکانوں میں رکھتے اور ماتم وغیرہ سے بچتے۔ لیکن لوگوں نے آج کے دور میں اسمیں طرح طرح کی بدعات و منکرات کو داخل کر دیا ـ یہاں تک کہ روضۂ مبارک کا نقشہ بھی نہیں پایا جاتا اور اسکو گلی بازاروں میں ڈھول باجوں کے ساتھ غیر شرعی انداز میں گھمایا جاتا ہے ـ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اعالی الافادة فی وتعزیة الھند و بیان الشھادة میں صفحہ ۳) پر ارشاد فرماتے ہیں اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت و ناجائز و حرام ہے ۔ اسی طرح (فتاوی رضویہ شریف جلد ۱۰ صفحہ ۱۸۹ )پر تحریر فرماتے ہیں: تعزیہ ممنوع ہے شرع میں اسکی کوئ اصل نہیں ۔اور جو کچھ بدعات اسکے ساتھ کی جاتی ہیں سخت ناجائز ہیں ۔ اور( فتاوی رضویہ جلد ۳ صفحہ ۲۵۸) پر تحریر فرماتے ہیں ۔تعزیہ کی تعظیم بدعت ـ اور( فتاویٰ رضویہ جلد ٦ صفحہ ١٧٦) پر تحریر فرماتے ہیں تعزیہ بنانا ناجائز ہے ـ آج کے دور میں نقل روضۂ اقدس حضور سید الشہداء کی ایسی تصویر بھی نہ بنائیں کیونکہ اس نقل میں بھی اہل بدعت سے مشابہت پائی جائیگی ۔ اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ ہے اور آنے والی اولاد کے لئے اس بدعت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ـ اسلئے صرف روضہ کے صحیح کاغذ کے نقشہ پر قناعت کرے اور تبرکاً اسے اپنے پاس رکھے جیسے حرمین طیبین اور اولیاء کرام کے مزارات کے نقشے آتے ہیں ۔ لھٰذا تعزیہ داری مروجہ ناجائز و بدعتِ سیۂ و حرام ہے ـ لوگوں کو چاھئے کہ مروجہ تعزیہ داری اور دیگر امور شنیعہ و بدعات و منکرات سے بچیں ـ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی( فتاوی عزیزیہ جلد ۱ صفحہ ٧٥) پر تحریر فرماتے ہیں یہ تعزیہ جو بنایا جاتا ہے زیارت کےقابل نہیں بلکہ اس قابل ہے کہ اسے نیست و نابود کیا جائے۔ اللہ تعالی سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ـ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ مہراجگنج یوپی۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.